حکومت نے عوامی معاہدے کے 38 نکات پر 98 فیصد عملدرآمد کرلیا: وزیراعظم آزادکشمیر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حکومت نے عوامی معاہدے کے 38 نکات پر 98 فیصد عملدرآمد کرلیا، ہماری حکومت بننے کے بعد عوام کی مایوسی میں بے پناہ کمی آئی ہے۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ حکومت 11نومبر کو بنی تھی، سوا ماہ میں ریاست کے2ڈویژنز میں عوامی اجتماعات کیے، سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوا۔فیصل ممتازراٹھور نے کہا کہ یہاں لوگ سڑکوں پر آئے اورمختلف تحریکوں نے جنم لیا، معاہدہ 4اکتوبر کو ہوا اورہماری حکومت 11نومبر کو بنی، ہماری حکومت بننے کے بعد عوام کی مایوسی میں بے پناہ کمی آئی ہے، حکومت 17 اکتوبر کو بنی، صرف سوا ماہ میں عوامی رابطہ بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیرکے دو ڈویژنز میں بھرپور عوامی اجتماعات، عوامی رجحان نے سیاسی نظام پر اعتماد بڑھایا، عوام نے اس حکومت کی اونرشپ لی، عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح تھی، تین ماہ کی مدت کے بجائے حکومت نے سوا ماہ میں بیشتر نکات پر عملدرآمد کیا۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل سے ریاست میں سیاسی چہل پہل بحال ہوئی، پچھلی حکومت کے دو ڈھائی سال میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ بڑھا تھا، موجودہ حکومت نے عوام اور قیادت کے درمیان کنیکٹیوٹی بحال کی، جن سڑکوں پر سیاست دانوں کے لیے چلنا مشکل تھا، آج عوام نے استقبال کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں بڑے عوامی اجتماعات، عوام نے حکومت کا خیرمقدم کیا، حکومت نے عوامی مفاد کے فیصلوں میں تاخیر نہیں کی، پانچویں کابینہ اجلاس اور اسمبلی سیشن میں اہم عوامی فیصلے کیے گئے، حکومت کا مقصد کسی سے مقابلہ نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل ہے۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ریاست میں اعتماد کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان پیپلز پارٹی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت نے عوامی معاہدے کے 38 نکات پر 98 فیصد عملدرآمد مکمل کیا ہے۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حکومت نے عوامی حکومت نے عوام نے کہا کہ نکات پر
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔