جماعت نہم اور دہم کیلئے یکساں امتحانی نصاب کی باضابطہ منظوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ تمام تعلیمی بورڈز کےلیے ایک مشترکہ امتحانی معیار طے کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں جماعت نہم اور دہم کے لیے یکساں امتحانی نصاب (Uniform Examination Syllabus – UES) کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انگریزی، ریاضی، طبعیات، کیمیاء اور حیاتیات کے امتحانات اب پورے صوبے میں ایک ہی معیار کے تحت منعقد ہوں گے۔
حکومتِ سندھ نے ان پانچ بنیادی مضامین کے لیے یکساں امتحانی نصاب اور تفصیلات کا جدول بھی منظور کر لیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اب امتحانی پرچے نصابی کتابوں کے بجائے منظور شدہ یونیفارم امتحانی نصاب کی بنیاد پر ترتیب دیے جائیں گے جبکہ اس سے قبل امتحانات براہِ راست نصابی کتب کے مطابق لیے جاتے تھے۔
یکساں امتحانی نصاب کے نفاذ کے بعد پہلی بار باقاعدہ اور واضح امتحانی نصاب متعین کر دیا گیا ہے جس کے تحت تمام تعلیمی بورڈز ایک ہی امتحانی فریم ورک کے اندر پرچوں کے ترتیب کریں گے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تفصیلی جائزے کے بعد یونیفارم امتحانی نصاب کی منظوری دی ہے اور یکساں امتحانی نصاب کے لیے باقاعدہ این او سی بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں گیارہویں اور بارہویں جماعت کو آئندہ مرحلے میں اس نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے اس اقدام کو امتحانی نظام میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں رٹہ سسٹم کے بجائے فہم، اطلاق اور تنقیدی سوچ پر مبنی امتحانی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جانچ کے جدید نظام کے نفاذ سے طلبہ کی اصل سیکھنے کی صلاحیت جانچنے میں مدد ملے گی اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی اصلاحات کے ساتھ ساتھ طلبہ کے سیکھنے کے نتائج (Student Learning Outcomes) پر بھی بھرپور کام جاری ہے اور مؤثر نتائج کے حصول کے لیے اساتذہ کی تربیت کے شعبے کو بھی وسعت دی گئی ہے۔
وزیرِ تعلیم کے مطابق یونیفارم امتحانی نظام سے شفافیت اور یکسانیت کو فروغ ملے گا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یکساں امتحانی نصاب کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔