جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان آج بھی تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی، انصاف پر مبنی معاشرے ہی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کو برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیئے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

جامعہ کراچی میں نوواردان جامعہ کے 75ویں بیچ کا سلور جوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال اور تقریب کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ جامعہ کراچی کے ممتاز فارغ التحصیل طلبہ کی انجمن یونی کیرئینز انٹرنیشنل، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، روئسائے کلیہ جات، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن، صدر انجمن اساتذہ غفران عالم، ممبر سنڈیکیٹ وسینٹ، عمائدین شہر، اساتذہ اور انتظامی عملے کی کثیر تعداد نے جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے سلور جوبلی گیٹ پر نوواردان جامعہ کے 75 ویں بیچ کا پرتپاک استقبال کیا۔ یوم جامعہ کی تقریب کا آغاز حفاظ کرام کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے پر داخلے سے قبل حفاظ کرام تلاوت قرآن فرماتے ہوئے جامعہ کراچی میں داخل ہوئے اور وہاں پر موجود تمام نوواردان جامعہ اور دیگر افراد کے ہمراہ جلوس کی شکل میں انتظامی عمارت تک گئے۔

ازاں بعد انتظامی عمارت کے پارکنگ گرانڈ میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے پروفیسرڈاکٹر طارق رفیع، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، محمد احمد شاہ، پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، ڈاکٹر سید سیف الرحمن، غفران عالم اور مشیر امور طلبہ ڈاکٹر نوشین رضا نے خطاب کیا۔ تقریب میں ممبر سنڈیکیٹ و سینٹ، عمائدین شہر، اساتذہ، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید عاصم علی نے انجام دیئے اور جامعہ کراچی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی اور یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی پاکستان کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نے اندرون و بیرونِ ملک بہت نام پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میڈیکل کے شعبے میں، جس کی بڑی وجہ میرٹ پر داخلہ ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی 50 فیصد سے زائد لڑکیاں عملی زندگی میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی نقصان بھی ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کریں۔

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اصل ہیرو ہمارے والدین ہیں جن کی محنت اور قربانیوں کی بدولت ہمیں اعلی تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی اپنے والدین کی امید ہیں، انہیں مایوس نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لڑکیوں میں تیزی سے تعلیمی اور بالخصوص اعلی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اپنی قابلیت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی والدین کا سہارا بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو متعدد مسائل درپیش ہیں، مگر ان کا حل ہم سب کو مل کر نکالنا ہوگا، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان آج بھی تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پر مبنی معاشرے ہی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کو برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیئے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی صرف ڈگری فراہم نہیں کرتی بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی ترقی اور نظریے پر بات کرنی چاہیئے، کیونکہ ہماری شناخت پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ جامعہ کراچی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اگر پورے ملک کی جامعات میں شائع ہونے والے تمام ریسرچ پیپرز کو یکجا کیا جائے تو بھی وہ جامعہ کراچی میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کے مقابلے میں کم ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے تک، بلکہ دورانِ تدریس ہی، طالب علم کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آتی ہے جسے نہ صرف وہ خود بلکہ اردگرد کے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ جامعہ کراچی صرف ڈگری نہیں دیتی بلکہ ایک مکمل شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ جامعہ کراچی کی بنیاد 1951ء میں رکھی گئی اور تب سے یہ ادارہ نہ صرف شہر کراچی بلکہ پورے ملک کی تعمیری اور ثقافتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جامعہ کراچی پاکستان کا فخر ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہر طالب علم روشن مستقبل کی نوید ہے۔ صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی غفران عالم نے کہا کہ پاکستان میں بمشکل 10 فیصد افراد کو جامعات تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے اور جامعہ کراچی میں داخلہ پانا ایک اعزاز اور خوش نصیبی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور استفادہ کریں اور ذاتی مفاد سے بڑھ کر ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی جامعہ کراچی کے کہ جامعہ کراچی فارغ التحصیل کہا کہ جامعہ ڈاکٹر سید کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے طلبہ کو ہے اور

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت