یوٹیوبر رجب بٹ کیس: وکلا کے درمیان تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
یوٹیوبر رجب بٹ کیس میں وکلا کے درمیان جاری تکرار نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بار کونسل نے ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کردیا
پنجاب بار کونسل کی جانب سے بیریسٹر میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کیے جانے کے بعد فریقین کے درمیان قانونی محاذ آرائی کا آغاز ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ بار کونسل میں رجب بٹ کے وکیل اور دیگر وکلا کی جانب سے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
بیریسٹر میاں علی اشفاق نے ایڈووکیٹ ریاض سولنگی اور عبد الفتاح چانڈیو کے خلاف باقاعدہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
دوسری جانب 15 دیگر وکلا نے بھی سٹی کورٹ میں سائلین پر مبینہ حملے کے خلاف سندھ بار کونسل سے رجوع کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیے: 60 بندوں نے مارا مگر معافی نہیں مانگی، تشدد کے بعد رجب بٹ نے خاموشی توڑ دی
درخواست گزار وکلا کا مؤقف ہے کہ سٹی کورٹ میں سائلین کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات سے وکلا برادری کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ سندھ بار کونسل کی خاموشی ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام اور بار کی عزت و وقار کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔
وکلا نے مطالبہ کیا ہے کہ 29 دسمبر کو سٹی کورٹ میں پیش آنے والے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بیریسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ ان کے موکل رجب بٹ پر تشدد کیا گیا جو انصاف کے تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔
مزید پڑھیں: رجب بٹ نے صرف ایک ماہ میں ٹک ٹاک لائیو سے کتنے کروڑ روپے کمالیے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایڈووکیٹ ریاض سولنگی اور عبد الفتاح چانڈیو نے قانون اور بار کی روایات کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب بار کونسل رجب بٹ کیس سندھ بار کونسل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب بار کونسل رجب بٹ کیس سندھ بار کونسل سندھ بار کونسل میاں علی اشفاق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔