بانی پی ٹی آئی جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں، انجینئر محمد علی مرزا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں، 2 سال جیل کاٹنے والے کے لیے فرسٹریٹڈ ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں انجینئر محمد علی مرزا نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے اندر کی تفصیلات بتادیں۔
ضمانت منظور ہونے اور ضمانتی مچلکے جمع ہونے کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں محل جیسی سہولیات حاصل نہیں، مگر انھیں باہر کی خبروں تک رسائی حاصل ہے، 2 اخبار ملے ہوئے ہیں۔
مذہبی اسکالر نے مزید کہا کہ عمران خان کے کمرے میں ایل ای ڈی بھی لگی ہوئی ہے، رہنے کے لیے 6 چکیاں بھی ملی ہوئی ہیں، جن میں سے 5 ان کے اپنے استعمال میں ہیں، چھٹی چکی میں ان کا مشقتی رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی دن میں 2 بار اپنی چکی سے باہر آتے تھے، صبح 9 بجے ناشتے کے لیے اور دوپہر 3 بجے دوپہر کے کھانے کے لیے، اُن کا مشقتی دیسی گھی کے تڑکے لگاتا تھا، جس کی خوشبو ہمیں بھی آتی تھی۔
انجینئر محمد علی مرزا نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی جب غصّے میں آتے تو بہت اُونچی آواز میں اور مسلسل بولتے، وہ جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں، 2 سال جیل کاٹنے والے کے لیے فرسٹریٹڈ ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انجینئر محمد علی مرزا بانی پی ٹی آئی جیل میں کے لیے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔