سال 2025 میں بھرتیوں اور کیسز کے فیصلوں میں بہترین کارکردگی دکھائی گئی، ایف پی ایس سی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے بتایا ہے کہ 2025 کے دوران بھرتیوں اور کیسز کے فیصلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا اور مجموعی طور پر 3 ہزار 5 نامزدگیاں کی گئیں جو حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
ایف پی ایس سی کے مطابق بلوچستان اور گلگت بلتستان کے کیسز ترجیحی بنیادوں پر حل کیے گئے، اصلاحات سے قبل کیسز مکمل ہونے میں 18 سے 24 ماہ درکار ہوتے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ سی ایس ایس 2023 (اسپیشل) اور سی ایس ایس 2024 کی ایلوکیشن 2025 میں مکمل کرلی گئی ہیں اور سی ایس ایس 2025 کے 65 فیصد انٹرویوز بھی مکمل ہو چکے ہیں۔
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ مجوزہ اصلاحات سے متعلق وزیراعظم شبہاز شریف کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایف پی ایس سی کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس سے ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ایف پی ایس سی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔