data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نیتن یاہو حکومت کو بڑا دھچکا، 69 ہزار افراد اسرائیل چھوڑ گئے۔ غزہ جنگ، سیاسی بے چینی اور سیکورٹی خدشات بڑی وجوہات ہیں، مسلسل دوسرے سال منفی ہجرت ریکارڈ،24 ہزار 6سو نئے مہاجرین آئے، آبادی میں تاریخی سست رفتاری رہی، صرف1.

1بڑھی، 10.18ملین تک پہنچی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 2025ء میں اسرائیل سے 69 ہزار  سے زاید افراد ملک چھوڑ گئے، جس کے باعث مسلسل دوسرے سال بھی منفی ہجرت ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مجموعی آبادی بڑھ کر 1 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار ہو گئی، تاہم شرحِ اضافہ صرف 1.1 فیصد رہی جو غیر معمولی طور پر کم ہے۔علاوہ ازیں پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کردیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران شدید موسمی حالات، مسلسل بارش اور طوفان کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے جبکہ ناکافی انسانی امداد، بنیادی ضروریات کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے درکار سامان کی سست رفتار ترسیل نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔  وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز کو غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ، مسلسل اور محفوظ انداز میں کام کرنے کی اجازت دے کیونکہ انسانی امدادی عمل میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور  آکسفیم جیسے بڑے اداروں سمیت 37 امدادی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اسرائیلی حکام نے امدادی اداروں پر ان کے فلسطینی عملے سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے کا الزام لگادیا اور کہا کہ  جو تنظیمیں سیکورٹی اور  شفافیت کے معیار پر  پورا نہیں اتریں گی، ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکومت کے اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے علاقے میں انسانی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔   غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خانیونس میں جمعہ کے روز قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید جبکہ متعدد دیگر شہری زخمی ہو گئے۔ وسطی غزہ کی پٹی کے النصیرات کیمپ میں بے گھر افراد کے خیمے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم ننھی بچی ملک رامی غنیم شدید سردی کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔

 

مانیٹرنگ ڈیسک

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل