data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسیچنج نے نئے سال کے دوسرے دن بھی تاریخی تیزی کیساتھ بلندیوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔کاروبار کے دوران انڈیکس نہ صرف179,467پوائنٹس کی بلند سطح پر ٹریڈ ہوا بلکہ 2600سے زاید پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس 179,000کی سطح پر بند ہوا۔اورمارکیٹ نے 3نفسیاتی حدیں بھی عبور کر لیں۔244 ارب روپے کے اضافے سے سرمائے کا مجموعی حجمم 20212ارب روپے سے تجاوز بھی کر گیا اور52.

27فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری،زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ،خوراک کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی بڑھتی رفتار کی شرح کم ہونے اور ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کیساتھ وفاقی سطح پر تیل و گیس کے ذخائرکی تلاش کیلئے مزید اقدامات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جبکہ لسٹڈ کمپنیوں کے نتائج سیزن نے بھی سرمایہ کاروں کو خریداری کی جانب راغب کیا۔جس کی وجہ سے دن بھرمارکیٹ بلندیوں کا نیا ریکارڈ بناتی رہی۔ماہرین کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی کی بڑی وجوہات نئے سال کی پوزیشننگ، مضبوط لیکویڈیٹی اور مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کی توقعات ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی اور حقیقی شرحِ سود کے عروج پر پہنچنے کے ساتھ مارکیٹ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے،اس سے فکسڈ انکم کے مقابلے میں ایکویٹیز کی کشش میں اضافہ ہو رہا ہے۔مزید برآں بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک صورتحال، مستحکم پاکستانی روپیہ اور آمدنی کے بہتر امکانات، بالخصوص بینکنگ اور سائیکلیکل شعبوں میں، ایکویٹیز کی فارورڈ لکنگ ری ریٹنگ کے لیے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو ٹریڈنگ کے دوران انڈٰیکس 3112پوائنٹس کے اضافے سے 179,467پوائنٹس کی نئی سطح پر ٹریڈ ہوا تاہم کاروبار کے اختتام پر 100انڈٰ یکس میں 2679پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کیبعد انڈیکس 176,355پوائنٹس سے بڑھ کر 179,034پوائنٹس پر بند ہوا۔اسی طرح 1007 پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30انڈیکس 55,017پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 106,095پوائنٹس سے بڑھ کر 107,392 پوائنٹس پر بند ہوا۔مارکیٹ کے سرمائے میں 244 ارب13 کروڑ 25 لاکھ35ہزار252روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 20212 ارب 54 کروڑ 83 لاکھ 70 ہزار983روپے پر جا پہنچا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو 64ارب روپے مالیت کے 1 ارب 11 کروڑ 30لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ جمعرات کو 48ارب روپے مالیت کے 1 ارب 40 کروڑ 26 لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 484کمپنیوں میں شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 253کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،201میں کمی اور 30کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے بینک آف پنجاب،کے الیکٹرک لمیٹڈ،میڈیا ٹائمز لمیٹڈ،پاک انٹر نیشنل بلک اور پاک قطر فیملی تکافل سر فہرست رہے۔قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اعتبار سے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کا بھائو 2149.46روپے بڑھ کر 23644.10روپے ہو گیا اسی طرح 149.94روپے کے اضافے سے یونی لیور پاکستان فوڈز لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 28999.99 روپے پر جا پہنچی جبکہ رفحان معیض پروڈکٹ کمپنی لمیٹڈ کا بھائو80.86روپے گھٹ کر 10013.47روپے ہو گیا اسی طرح 14.53روپے کی کمی سے سن ریز ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 143.71روپے پر آ گئی۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے اضافے سے قیمتوں میں کے حصص کی ارب روپے

پڑھیں:

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کے پیشِ نظر کرپٹو کرنسیوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا فراہم کیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ادھر ڈالر 160 ین کی سطح کو چھونے کے بعد کچھ پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جاپانی حکام اس سطح پر پہنچنے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی

رسد کے حوالے سے بھی منڈی کو سہارا ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے کم ہوئے ہیں۔

29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔

آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں آسان نہیں

اے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مزید جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔

امریکی اور ایرانی دعوے آمنے سامنے

امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔

سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکا

میلبورن میں بروکریج ادارے پیپر اسٹون کے تحقیقی شعبے کے سربراہ کرس ویسٹن کے مطابق گزشتہ ہفتے تک مالیاتی منڈیوں کو یقین تھا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی یادداشت تک پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال زیادہ غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور سرمایہ کار اپنی سابقہ پوزیشنیں ختم کر رہے ہیں۔

بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

فوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔

دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار

جہاں ایک طرف جنگی خدشات نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا، وہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار رہی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر معاہدوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیا میں اے آئی شعبے کی بدولت حصص کی منڈیوں نے نئی بلندیاں چھو لیں۔

تائیوان اور جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔

مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں غیر معمولی اضافہ

چِپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں 32.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔

اس اضافے کی ایک بڑی وجہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کا بیان تھا، جنہوں نے تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس نمائش کے دوران مارویل ٹیکنالوجی کو ’اگلی ایک ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی‘ قرار دیا۔

اسپیس ایکس کی تاریخی شیئر فروخت کی تیاری

دوسری جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس آئندہ ہفتے ایک بڑی ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی 55 کروڑ 56 لاکھ حصص فی شیئر 135 ڈالر کی متوقع قیمت پر فروخت کر کے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شرح سود میں اضافے کی توقعات

امریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمتوں کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور معیشت کو فوری طور پر شرح سود میں کمی کی ضرورت نہیں۔

اپریل میں امریکا میں نئی ملازمتوں کے مواقع 5 برسوں کی بلند ترین رفتار سے بڑھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کم کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آنے والے روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے تو امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

ادائیگیوں کے ادارے کور پے کے ایشیا پیسیفک کرنسی اسٹریٹجسٹ پیٹر ڈراگیسیوچ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی معیشت کی رفتار بہتر ہونے کے آثار ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کی موجودہ توقعات سے زیادہ مضبوط آ سکتے ہیں۔

عالمی کرنسی منڈیوں کی صورتحال

غیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔ یورو 1.1627 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ امریکی ڈالر 159.86 ین کی سطح پر برقرار رہا۔

ادھر آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مارچ کی سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہی۔ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھی، لیکن درآمدات میں اضافے نے مجموعی نمو پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7177 امریکی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران امریکا جنگ کرپٹو کرنسی

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ