Jasarat News:
2026-07-24@09:06:34 GMT

سہون ، قلندر کی نگری میں کھلے عام منشیات کی فروخت

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

سہون ، قلندر کی نگری میں کھلے عام منشیات کی فروخت

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سہون (نمائندہ جسارت ) قلندر کی نگری سہون میں پولیس کی سرپرستی میں مضر صحت چھالیہ، مین پڑی، گٹکا، شراب، ہیرون، آئس، افیم، بھنگ سمیت دیگر منشیات کی اشیا سرے عام فروخت ہونے لگی، نوجوان نسل تباہ، پولیس نے ہفتہ مقرر کردیا، ایس ایس پی جامشورو بھی منشیات کو روکنے میں ناکام۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے حکم کو ان کے انتخابی حلقے کے پولیس افسران نے ہی ہوا میں اڑا دیا، وزیر اعلیٰ سندھ کے شہر سہون منشیات کا گڑھ بن چکا ہے، سہون پولیس، 15 مددگار پولیس، دی آئی بی اور اسپیشل برانچ اہلکاروں کی سرپرستی میں شہر کے مختلف محلوں میں مضر صحت چھالیہ، مین پڑی، گٹکا، شراب، ہیرون، آئس،افیم، بھنگ سمیت دیگر منشیات کی اشیا فروخت ہو رہی ہیں جس کے باعث شہر کے سینکڑوں نوجوان و شہری نشے آور اشیا استعمال کرنے کے عادی بن چکے ہیں، منشیات کی اشیا کے استعمال کے باعث سیکڑوں نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، نوجوان نسل تیزی سے تباہی طرف بڑھ رہا ہے، منشیات فروشوں کو پولیس کی سرپرستی حاصل ہے، منشیات فروخت ہونے کے باعث شہر کے معصوم بچے بھی نشے آور اشیا کے استعمال کے عادی بن گئے ہیں، جو اسکولز و کالجز جانے کے بجائے جوا کے اڈوں، میخانوں، کچے شراب کے بٹھوں پر بیٹھ کر اپنا وقت گزارتے ہیں، سہون پولیس، 15 مددگار پولیس، ڈی آئی بی اہلکاروں اور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں کی نااہلی و کرپشن کے باعث سہون تھانے کے ساتھ بھی منشیات کا کاروبار سرے عام چلنے لگا، مگر پولیس ہفتہ وصولی کے باعث خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، سہون شہر کے اہم شاہراہوں جہاز چوک، اسٹیشن محلہ، بندر محلہ، کھوسہ محلہ، مکرانی محلہ، نیو بس اسٹاپ، پرانہ بس اسٹاپ، گاؤں لونگ داروغو سمیت دیگر علاقوں میں کچے شراب کے اڈے، مین پوری اور گٹکے کے اڈے، مضر صحت چھالیوں زید 21، راجا بابو، ہیروئن آئس، افیم بھنگ سمیت دیگر منشیات کی اشیا سرے عام معصوم بچے، خواتین اور مرد فروخت کرتے رہتے ہیں جو پیٹ کی بیماری، کینسر، گلے کے مرض سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں، جو زندگی اور موت کے راستے پر کھڑے ہیں اور غربت کے باعث اپنا علاج کروانے سے قاصر ہیں۔اس ضمن میں سہون تھانے پر تعینات ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں بتایا کہ یہ سچ ہے کہ سہون میں پولیس کی سرپرستی میں شراب، مین پوری، گٹکا، ہیروئن، آئس، افیم، بھنگ سمیت دیگر منیشات کے اڈے چلتے ہیں اور منشیات کی اشیا شہر میں سرے عام فر وخت ہو رہی ہیں جو پولیس کی مجبوری ہے اور سارا خرچا ہم اعلیٰ افسران پر کرتے ہیں منشیات کا کاروبار بااثر افراد کرتے ہیں، اگر ہم ان کے اوپر مقدمہ درج کرتے ہیں تو وہ کورٹ سے آزاد ہوجاتے ہیں ہم مقامی افراد ہیں اس لیے ہم بااثر افراد کے اوپر مقدمہ درج نہیں کرتے، سہون شہر کے مختلف محلوں، گلیوں، کالونیوں میں 20 سے زائد کچے شراب کی بٹھیاں، گٹکے کے اڈے اور مین پوری کے کارخانے ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سہون کی سیاسی و سماجی تنظیموں کے عہدیداروں کامریڈ اکبر ملاح، محمد نواز رند، عبدالحکیم بڑدی سمیت دیگر نے نوجوان نسل کی تباہی کا ذمے دار پولیس انتظامیہ کو قرار دے دیا ہے۔اس سلسلے میں شہریوں نے بتایا کہ پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے اڈے چلتے ہیں جس کے باعث نوجوان نسل کی زندگی تباھ ہو رہی ہے، مگر اعلیٰ حکام نوٹس نہیں لے رہے ہیں، سہون کے رہائشیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پر پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے اڈے چل رہے ہیں، پولیس منشیات کا کاروبار اپنی نگرانی میں چلا رہی ہے اور پھر خانہ پری کرنے کیلئے غریب شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیتی ہے، پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے اڈے چلتے ہیں جس کے باعث نوجوان نسل درسگاہوں، تعلیمی اداروں کے بجائے مکانوں، جوا کے اڈوں، منشیات کے اڈوں پر اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں، سہون کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ سہون شہر میں پولیس کی سرپرستی میں چلنے والے منشیات کے اڈوں کو بند کرواکر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے اور منشیات فروشی کے خلاف ایکشن نہ لینے والے ایس ایس پی جامشورو کو ہٹاکر کوئی ایماندار ایس ایس پی تعینات کیا جائے جو منشیات کا مکمل خاتمہ کروائے۔دوسری جانب منشیات کے کاروبار سے متعلق موقف لینے کیلئے ایس ایس پی جامشورو سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ایس ایس پی نے فون اٹینڈ نہ کیا جس کے باعث ان کا مؤقف معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس کی سرپرستی میں منشیات کی اشیا بھنگ سمیت دیگر نوجوان نسل جس کے باعث ایس ایس پی منشیات کے منشیات کا کے اڈوں شہر کے کے اڈے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری

بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر  میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔

یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔

بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز  قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔

بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔

سی آر پی ایف  سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار