بنجر، سیم زدہ زمینوں کو پہلی بار قابل استعمال بنایا جا رہا ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے تحت پنجاب میں بلیو اکانومی اور آبی حیات کے فروغ کیلئے سرگودھا اور علی پور میں 5ہزار 600 ایکڑ پر شرمپ سٹیٹ بنائی جائے گی۔ سرگودھا میں شرمپ فارمنگ منصوبے کی ترقی کے لئے 20 ایکڑ اراضی پر9 تالاب بن چکے ہیں جبکہ 5,320 میٹر ڈرینج کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی۔ اگلے مرحلے میں مزید 10 ایکڑ اراضی پر شرمپ فارمنگ کے لئے سروے بھی ہوچکا ہے۔ ساڑھے 4 ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں کوالٹی کنٹرول لیبارٹری پر99فیصد کام مکمل ہوگیا۔ مظفرگڑھ میں تحقیق اور شرمپ فارمنگ کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی کی لیبارٹری کے قیام کا 98 فیصد کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر شرمپ فارمنگ کے فروغ کے لیے پاکستانی ماہرین کو سعودی عرب اور میکسیکو میں خصوصی ٹریننگ کرائی گئی ہے۔ شرمپ فارمنگ کے فروغ کے لیے عملے کی فراہمی کا عمل بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ 100 انٹرنیز کے تحریری امتحانات کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ 32 ٹیوب ویلوں اور 8 ٹرانسفارمرز کی تنصیب کر لی گئی ہے۔ ریسرچ کے لئے 64 تالابوں میں شرمپ کا سیڈ ڈالا گیا تھا۔ سرگودھا کے چک نمبر 58 میں 124 ایکڑ اراضی پر شرمپ سٹیٹ اور ویلیو چین قائم ہوگی جبکہ 57 تالاب کی کھدائی مکمل کر لی گئی۔ رکھ علی ولی مظفرگڑھ میں شرمپ فارمز کے لیے 2 ہزار 507 ایکڑ اراضی کی صفائی اور ہموار کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ رکھ علی ولی مظفرگڑھ میں 57 تالابوں اور 50 ٹیوب ویلز کی کھدائی کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بنجر اور سیم زدہ زمینوں کو شرمپ فارمنگ کے ذریعے پہلی بار قابل استعمال بنایا جا رہا ہے۔ شرمپ فارمنگ کے آغاز سے پنجاب کی برآمدات میں بڑا اضافہ ہو گا۔ منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پنجاب میں بلیو اکانومی کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شرمپ فارمنگ کے ایکڑ اراضی بھی مکمل کے لئے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔