کراچی: بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لیے 6 روزہ مہم 5 جنوری سے شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی میں بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لیے 5 جنوری سے 6 روزہ مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ اس مہم کے دوران 60 لاکھ بچوں کو پیٹ کے کیڑوں سے بچاؤ کی خوراک دی جائے گی۔
یہ خوراک 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں کو دی جائے گی، جبکہ 15 سے 18 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ مہم میں تعلیم کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے علاوہ گھروں میں بھی یہ خوراک فراہم کی جائے گی۔
مہم میں 10 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز حصہ لیں گے۔ پاکستان ڈی وارمنگ انیشیٹیو کے سینئر پروگرام منیجر قدیر بیگ کا کہنا تھا کہ یہ کراچی کی دوسری لائنچنگ ہے اور مہم اگلے ہفتے شروع ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی معمولی پروگرام نہیں ہے، بلکہ اب تک پچاس ملین بچوں کو اس مہم کے تحت کور کیا جا چکا ہے، جس میں ڈھائی لاکھ سے زائد اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز شامل ہیں، اور دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ اسکولز اس مہم کا حصہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔