’ڈنگروں کی طرح کھانے‘ والے بیان پر تنقید، وسیم اکرم کا ردعمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان کے سابق کرکٹر وسیم اکرم کے سال نو پر پاکستانیوں کو مشورہ دیا تھا کہ ’’ڈنگروں کی طرح کھانا چھوڑ دیں‘‘۔
سوئنگ آف سلطان نے پاکستانیوں کو بے حساب اور بے وجہ کھانے کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا تھا۔ لیکن یہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد وسیم اکرم پر پاکستانیوں کو ’’ڈنگر‘‘ کہنے پر شدید تنقید کی جارہی تھی۔
حالیہ تنقید کے بعد وسیم اکرم کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انھوں نے اپنے سابقہ بیان پر اُن لوگوں سے معذرت کی ہے جنھیں اُن کے الفاظ برے لگے۔
ساتھ ہی وسیم اکرم یا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ ہماری باتیں پکڑ لیتے ہیں، خامیاں نکالنا جانتے ہیں لیکن جو اصل پیغام ہے اس پر دھیان نہیں دیتے۔
وسیم اکرم اپنے سابقہ بیان کا الگ ورژن پیش کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہے اور یہ بھی کہا کہ سچی بات ہمیشہ کڑوی لگتی ہے۔ انھوں نے دعا کی کہ اللہ آپ کو ہدایت دے۔
- Koray log, I want answers!!!#StayHealthy #ExerciseDaily pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔