میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے دعویٰ کیا کہ جسٹس آف پیس کے اختیارات صرف عوامی شکایات کو پولیس تک پہنچانے اور ایف آئی آر کے اندراج کیلیے ہدایات دینے تک محدود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دینے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حمزہ شفقات نے دعویٰ کیا کہ یہ اختیارات صرف عوامی شکایات کو پولیس تک پہنچانے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ہدایات دینے تک محدود ہیں۔ حمزہ شفقات نے کہا کہ اس اقدام کے تحت نہ کسی عدالتی کارروائی کا انعقاد کیا جائے گا، نہ کسی قسم کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور نہ ہی انتظامی افسران براہِ راست تفتیش میں مداخلت کریں گے۔ انکا دعویٰ تھا کہ اس فیصلے کا مقصد عوام کو شکایات کے ازالے کے لیے آسان اور شفاف راستہ فراہم کرنا ہے، اور کسی بھی صورت میں عدلیہ کی خودمختاری یا تفتیشی عمل پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات فراہم کرنے سے عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران ان اختیارات کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جسٹس آف پیس کے اختیارات حمزہ شفقات نے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار