میچ سے قبل گالف کھیلنے پر تنقید غیرمنصفانہ تھی، اسٹیو اسمتھ عثمان خواجہ کی حمایت میں بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ ٹیم کے کھلاڑی عثمان خواجہ کی حمایت کرتے ہیں، جنہیں جاری ایشز سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کی تیاری کے دوران تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
خواجہ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ 5ویں ایشز ٹیسٹ کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اور ساتھ ہی کہا کہ ان پر ہونے والی بعض تنقید میں نسل پرستانہ پہلو بھی شامل تھے۔
خواجہ پر اس بات کی تنقید ہوئی تھی کہ انہوں نے پرتھ ٹیسٹ سے پہلے گالف کھیلا اور اس سے ان کی میچ کی تیاری متاثر ہوئی۔ اسمتھ نے کہا کہ یہ تنقید غیر منصفانہ تھی اور خواجہ ہمیشہ یکساں محنت کے ساتھ تیار ہوتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں‘، عثمان خواجہ کا نسلی تعصب اور دوہرے معیار پر کھلا اظہار
انہوں نے مزید کہا کہ میں عثمان خواجہ کے ذہن میں نہیں جا سکتا، لیکن وہ 15 سال سے بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ان کے گالف کھیلنے اور زخمی ہو جانے کے مقاملے پر تنقید کرنا غیر منصفانہ ہے۔
اسمتھ نے خواجہ کے شاندار کیریئر کو سراہا اور کہا کہ میں نے ان کے کھیل کا مشاہدہ انڈر19 بمقابلہ انڈر17 ٹیموں کے میچز میں کیا ہے اور مجھے ان کی بیٹنگ بہت متاثر کن لگی۔ ان کی لمبے عرصے تک مسلسل ترقی واقعی قابل تعریف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا اسٹیو اسمتھ عثمان خواجہ کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا اسٹیو اسمتھ عثمان خواجہ کرکٹ عثمان خواجہ کہا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔