بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی خطرے میں ہے،جماعت اسلامی ہند
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مرکز جماعت اسلامی ہند کے میڈیا ہال میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے بنیادی طور پر ایک مذہبی ملک رہا ہے۔یہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے باوجود بقائے باہمی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک شاندار روایت موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر ہمارے مذہبی رہنماؤں اور اداروں نے اتحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم اب یہ وراثت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے فرقہ وارانہ بیان بازی، اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقریریں ، ہجومی تشدد اور مذہبی منافرت میں روز بہ روز اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔جنوبی ایشیا جسٹس کیمپین کے انڈیا پرسی کیوشن ٹریکر 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر زیادتیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان میں جھوٹے انکاؤنٹر، ہجومی تشدد، من مانی گرفتاریاں، مکانات کی مسماری، بے لگام نفرت انگیز تقریریں اور جبری بے دخلیاں شامل ہیں۔ پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ طاقتیں سیاسی فائدے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کر کے سماج میں فرقہ وارانہ خلیج پیدا کر رہی ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی یقین ہے کہ ملک کے عوام میں فرقہ پرست قوتوں کو شکست دینے کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے جماعتِ اسلامی ہند’دھارمک جن مورچہ‘ اور ’سادبھاؤنا منچ ‘ جیسے بین المذاہب اور امن کے پلیٹ فارموں کے ذریعے پورے ملک میں مسلسل کام کر رہی ہے۔اس موقع پر جماعت اسلامی ہند نے 2026 کو ’ امن، اتحاد اور انصاف اور سب کے لیے جامع اور پائیدار ترقی کا سال‘ بنانے کے لیے اپنی جدو جہد کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔ ہم تمام مذہبی اور سماجی رہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امن و انصاف کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں ساتھ ہی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم مقصد میں شامل ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ہند فرقہ وارانہ نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔