واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آیا۔ عالمی ردعمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ میں بھی شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مداخلت کی مخالفت میں احتجاج جاری ہے۔

امریکی احتجاج اور ردعمل

امریکی میڈیا کے مطابق چکاکو سمیت متعدد شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے، جن میں لوگوں نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی اور ایک جارحیت قرار دیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف شدید نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

????‼️"Venezuela no es tuya": Protestas en EE.

UU. contra los ataques de Washington

Cientos de manifestantes salieron a las calles de Atlanta, Nueva York y Washington D.C. para exigir a Trump el cese de la agresión contra Venezuela.https://t.co/G93n319zMp pic.twitter.com/3uBi0R9IjW

— RT en Español (@ActualidadRT) January 3, 2026

‘نو ٹو وار’ مطالبات

واشنگٹن اور پورٹ لینڈ جیسے شہروں میں احتجاجی پروگرام منصوبہ بندی کے تحت منعقد ہوئے، جن میں شرکا نے امریکی مداخلت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ امریکہ کو وینزویلا سمیت کسی بھی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ متحرک گروپس نے اس تنازعے کو آئینی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟

ملکی سیاست اور فوجی کارروائی

صدر ٹرمپ نے خود اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا پر اثرات قائم رکھے گا اور وہاں عبوری انتظام چلائے گا، جبکہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تنقید اور قانونی سوالات اٹھا دیے ہیں، جن میں امریکی اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر مخالفت شامل ہے۔

Dozens of cities across the country today marched against Trump’s war on Venezuela. The marches were called as part of an emergency day of action in response to the administration’s bombing of Caracas last night.

Even more actions are planned for tomorrow. pic.twitter.com/S7ENNJgtbv

— BreakThrough News (@BTnewsroom) January 4, 2026

یہ خبر امریکی احتجاج اور ردعمل کو اجاگر کرتی ہے، جس میں نہ صرف لوگوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر عوامی اظہارِ مخالفت کیا بلکہ امریکہ میں سیاسی اور سویلین حلقوں نے بھی اس پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا