شادی کی تقریب کے دوران کمرے کی چھت گرنے سے 6 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چارسدہ: خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں افسوسناک حادثے کے نتیجے میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے، یہ واقعہ شبقدر کے علاقے چھت مٹہ خیرآباد میں پیش آیا جہاں شادی کی تقریب کے دوران ایک کمرے کی چھت اچانک گر گئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ فضل داد نامی شخص کے گھر میں پیش آیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی اور بڑی تعداد میں مہمان موجود تھے، چھت گرنے سے کئی افراد ملبے تلے دب گئے، جس کے باعث موقع پر ہی 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں پانچ کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہی گھر کے چار افراد حادثے میں جان سے گئے، واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا، زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، واقعے پر علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے اور شادی کی خوشیاں غم میں بدل گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شادی کی
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی