کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی شہر سے دشمنی کرتی ہے: حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے دنیا کے تمام قوانین کو روندتے ہوئے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغواء کیا، اب امریکا کی جارحانہ پالیسی کا سلسلہ نہیں چلے گا، امریکا میں بھی اب ٹرمپ کے خلاف لہر چلنا شروع ہوگئی ہے، پاکستان کی طرف سے کوئی بیان نہیں دیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو سمجھنا چاہیے، امریکی ایجنڈا پورا کرنے میں خیر نہیں ہوگی۔
اسرائیل سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے بعد بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، فلسطین میں قتل عام میں امریکا ملوث ہے، غزہ میں اس وقت صورت حال خراب ہے اور وہاں پر موسم خراب ہے اور اسرائیل امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کے پاس 78 لینڈنگ رائٹ موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے، پنجاب کا تقابل پنجاب کے فنڈز سے کیا جائے، کراچی کا پنچاب سے موازنہ نہ کیا جائے، پنجاب میں جتنے فنڈز ملتے ہیں اس حساب سے کارکردگی دیکھی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ سندھ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، سندھ کا تو برا حال ہے ہی لیکن پنجاب میں بھی دودھ کی نہر نہیں بہہ رہی، سندھ حکومت کراچی کے 3 ہزار 4 سو ارب کھا گئی ہے، نعمت اللہ خان نے اپنے دور کے آخر میں کے فور پر کام شروع کردیا تھا، 21 سال ہوگئے ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کردیتے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، آئین میں ترمیم کرنی ہو تو پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے، جب عوام کی بات آئے تو بلیم گیم شروع ہو جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی حافظ نعیم نے کہا ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔