تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)قومی مذاکراتی کمیٹی نے اپنی مجوزہ قومی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تحریک تحفظ آئین پاکستان سے رابطہ کیا اور کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔رپورٹ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی مذاکراتی کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
ذرائع نے کہا کہ ہمیں آج دعوت نامہ موصول ہوا ہے، مگر ہم نے شرکت سے انکار کر دیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کو دیا ہے، مذاکرات تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہوں گے۔
قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس 7 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگی، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جے یو آئی، جماعت اسلامی کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، ایم کیوایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی، اے این پی اور دیگر جماعتوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھکر میں یومِ ولادتِ باسعادت حضرت علیؓ کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ و محفلِ سماع کا انعقاد بھکر میں یومِ ولادتِ باسعادت حضرت علیؓ کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ و محفلِ سماع کا انعقاد مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، مضبوط پاک فوج ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے: رانا منان خان قومی معیشت پر اثر انداز ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلے ترجیح ہوں گے: چیف جسٹس محسن نقوی کا منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم وفاقی وزارتِ تعلیم کا بڑا فیصلہ: نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 میں پہلی بار نجی سکولز بھی شامل چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گلگت بلتستان کے برزل پاس میں برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں پاک فوج کے شہیدا کو...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان قومی مذاکراتی کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت شرکت سے انکار قومی کانفرنس
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔