پرائیویٹ سیکٹر کا عازمین حج تربیتی نشستوں پرویبنار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سرکاری و پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت سعودی حکومت کی تعلیمات کے مطابق حج 2026 کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے سعودی حکومت کی طرف سے انتظامات کو بر وقت مکمل کر نے پر تحسین کی گئی ہے پرائیویٹ سیکٹر نے عازمین حج کے لیے تربیتی نشستوں کا آغاز کر دیا ہے کاروان اشرفیہ سکھیرا اور کاروان سیف اللہ حج گروپ نے انٹرنیشنل زوم حج کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پاکستان سمیت امریکہ برطانیہ کینیڈا یورپ اور خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں پاکستانی عازمین حج نے شرکت کی کانفرنس سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان معروف موٹیویشنل اسپیکرقاسم علی شاہ ممتاز معالج ڈاکٹر سلیم ناصر مذہبی اسکالر حافظ محمد شفیق اور ڈائریکٹر کاروان اشرفیہ محمد صداقت نے خطاب کیا ۔ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف نے قرآن وسنت کی روشنی میں فضائل حج اور اس کی فیوض و ثمرات پر خطاب کیا قاسم علی شاہ نے کہا کہ سفر حج دنیا کے اسفار سے مختلف ہے جو مالی اور بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی سفر ہے جو انسان زندگی بدل دیتا ہے حافظ محمد شفیق کاشف نے کہا کہ عازمین حج کے تربیتی نشستوں میں شرکت ناگزیر ہے سعودی عرب کے ویزن 2030ء کے مطابق بہترین خدمات اور انتظامات کے لئے سعودی ٹائم لائن بڑی معاون ثابت ہوئی ہے ڈاکٹر سلیم ناصر نے عازمین حج کو سعودی حکومت اور وزارت مذہبی امور پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں ابتدائی تیاری کے لیے بہترین طبی مشورے دیئے ڈائریکٹر کاروان اشرفیہ محمد صداقت نے خطاب کرتے ہوئے اور عازمین حج کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کی تعلیمات اور ہدایات پر عمل کر کے سفر حج کو آسان بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا حج میں دی گئی سہولتوں اور نظام کی پابندی کر کے اوورسیز پاکستانیز نجی شعبہ کی بہترین خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سعودی حکومت
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔