قلات، ایرانی تیل اور غیر ملکی سامان پر پابندی، کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ضلعی انتظامیہ کے حکمنامے کے مطابق پٹرولیم ایکٹ کے تحت غیر ملکی سامان سمیت ایرانی تیل اسمگلنگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ خلاف ورزی پر گاڑی اور سامان کو ضبط کر لیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع قلات میں ضلعی انتظامیہ نے ایرانی پٹرول اور غیر ملکی سامان کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق پٹرولیم ایکٹ کے تحت اسمگلنگ کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی سامان سمیت ایرانی تیل اسمگلنگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ اسمگلرز کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر قلات کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اسسٹنٹ کمشنر قلات اور اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد منگچر کو ہدایات جاری کر دی گئی ہے کہ ایرانی تیل کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کرکے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور ایرانی تیل فروخت کرنے والے پٹرول پمپس کو سیل کرکے سامان بھی ضبط کرلیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکی سامان ایرانی تیل کے خلاف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔