اسحاق ڈار کا دورہ چین، سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بیجنگ:
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے دورہ بیجنگ کے دوران دونوں ممالک نے پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت چینے پر اتفاق کرلیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ سے ملاقات کی اور اس موقع پر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے پلینری اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔
دونوں فریقین نے پاک-چین دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ٹو پارٹی روابط، علاقائی صورت حال اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو بامقصد اور شایان شان انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے چین کے ایگزیکٹو نائب وزیراعظم ڈِنگ شوئے شیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاک-چین ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ نے چین کے بنیادی مفادات پر پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی قیادت و عوام کے لیے نئے سال کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد بن حاجی حسن، بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر توحید حسین اور مصر کے وزیر خارجہ بدر احمد محمد عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
نائب وزیراعظم نے ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ علاقائی صورت حال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور تمام فریقین نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
خیال رہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ ساتویں پاک-چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نائب وزیراعظم اور وزیر اسحاق ڈار پر اتفاق پاک چین سی پیک چین کے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔