کانگریس نے پانچ ریاستوں کیلئے اسکریننگ کمیٹیاں تشکیل دیں، پرینکا گاندھی کو آسام سونپا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
پرینکا گاندھی کے علاوہ آسام کیلئے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی میں رکن پارلیمنٹ سپتگیری شنکر اولاکا، رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور ڈاکٹر سریویلا پرساد شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) نے پانچ ریاستوں کے لئے اسکریننگ کمیٹیاں تشکیل دیں، وہاں اس سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں کیرالہ، آسام، تمل ناڈو، مغربی بنگال، اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری شامل ہیں۔ کانگریس نے پارٹی کی جنرل سکریٹری اور وایناڈ کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کو نئی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ کانگریس تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کے سی وینوگوپال نے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ہر ریاست کے لئے اسکریننگ کمیٹیوں کی تفصیل دی گئی۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری نے لکھا کہ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے پارٹی جنرل سکریٹری اور وایناڈ رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کو فوری اثر سے آسام کی اسکریننگ کمیٹی کی چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔
پرینکا گاندھی کے علاوہ آسام کیلئے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی میں رکن پارلیمنٹ سپتگیری شنکر اولاکا، رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور ڈاکٹر سریویلا پرساد شامل ہیں۔ دریں اثنا مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کرناٹک قانون ساز کونسل کے رکن بی کے ہری پرساد کی سربراہی میں چار رکنی اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹر محمد جاوید، جھارکھنڈ رکن اسمبلی ممتا دیوی، اور بی پی سنگھ کو ممبر بنایا گیا ہے۔ کانگریس تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے سابق ممبر پارلیمنٹ مدھوسودن مستری کو کیرالہ انتخابات کے لیے پارٹی کی اسکریننگ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
ڈاکٹر سید نصیر حسین، کرناٹک سے راجیہ سبھا کے رکن نیرج ڈانگی اور کانگریس لیڈر ابھیشیک دت کو ممبر بنایا گیا ہے۔ تمل ناڈو اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس ہائی کمان نے چھتیس گڑھ کے سابق کابینہ وزیر ٹی ایس سنگھ دیو کی سربراہی میں ایک اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ان کے ساتھ مہاراشٹر کی سابق کابینہ وزیر یشومتی ٹھاکر، راجیہ سبھا کے رکن جی سی چندر شیکھر اور انل کمار یادو شامل ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسکریننگ کمیٹی پرینکا گاندھی رکن پارلیمنٹ جنرل سکریٹری تشکیل دی کے رکن کے لئے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔