مقامی سطح پر ادویات کی تیاری، ملک میں ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
مقامی سطح پر ادویات کی تیاری، ملک میں ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی پالیسی کے تحت ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔مقامی سطح پرادویات کی تیاری کی پالیسی کی دستاویز کے مطابق ملک میں چند برس میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے متجاوز ہونے کا خدشہ ہے، مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے تقریبا 50 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ہوگی۔ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت ملک میں پہلی بار ویکسین فنڈ بنایا جائے گا۔
دستاویز کے مطابق پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کیلئے قلیل المدتی ایکشن پلان پالیسی کا حصہ ہے، مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت ملک میں پہلی بار ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا۔ فنڈ ریاست کی ملکیت ہوگا، تجارتی اصولوں کے تحت پیشہ وارانہ انداز میں چلایا جائے گا۔سیکٹر میں سرمایہ کاری کی مسائل حل کرنے کیلئے اسی فنڈ سے سرمایہ کاری کی جائے گی، ویکسین کی تیاری سے کلینیکل ٹرائل تک اسی فنڈ کو استعمال کیا جائے گا، پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کیلئے مشینری پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق اس پالیسی کے تحت ڈریپ کی استعداد بڑھانے کا منصوبہ بنایا جائیگا، نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولو جیکلزکی اپ گریڈیشن کی جائیگی، فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اہم مالیاتی ذریعہ ہوگا، فنڈویکسین درآمد سے نکال کربرآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی طرف لے جائے گا۔ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپرٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں بھی ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا35فیصدڈالرمیں رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک چین دوستی خطے اور دونوں ممالک میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے ناگزیر قرار پاک چین دوستی خطے اور دونوں ممالک میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے ناگزیر قرار بلاول بھٹو کاویژن کراچی کو موہنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم الرحمان اسد قیصر، جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماوں کا لاہور کے خفیہ دورے کا انکشاف ٹی20ورلڈ کپ،بنگلا دیش کا کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ امریکا کی وینزویلا پر حملے کے بعد مزید کئی ملکوں کے سربراہان کو دھمکی مسئلہ کشمیر تقسیمِ پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ویکسین فنڈ قائم ادویات کی تیاری ملک میں کرنے کا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔