لکی مروت اور بنوں میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، 4 پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
سہیل آفریدی نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بزدلانہ حملوں سے ملک دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لکی مروت میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی ٹریفک پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے تین اہلکار شہید ہوگئے۔ ٹریفک پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ شہید اہلکاروں میں انچارج ٹریفک پولیس نورنگ جلال خان، پولیس کانسٹیبل عزیز اللہ اور پولیس کانسٹیبل عبداللہ شامل ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، شہید اہلکاروں کو نورنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دوسری جانب، بنوں کے تھانہ منڈان کی حدود کفشی خیل میں پولیس اہلکار رشید خان موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے شہید ہوگیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق بنوں ریجن میں چار گھنٹوں کے دوران چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس انچارج سمیت تین پولیس اہلکاروں کی شہادت پر وزیر اعلیٰ نے شدید مذمت کی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بزدلانہ حملوں سے ملک دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہے ہیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، صوبائی حکومت پولیس فورس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں کی پولیس اہلکار ٹریفک پولیس
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔