مرتضیٰ وہاب نے کریم آباد انڈر پاس پر کام میں تاخیر پر معذرت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کریم آباد انڈر پاس کے کام میں تاخیر پر معذرت کرلی۔
میئر کراچی نے اسٹریٹ لائٹس کی شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کے کام میں تاخیر ہوئی ہے جس پر وہ معذرت چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈر پاس کا کام تیزی سے جاری ہے ، مخالفین کام کرکے بات کریں کام کیے بغیر بات نہ کریں ۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ 2026ءکا ایک اور کام پیپلزپارٹی کے منشور کے تحت کیاگیا ہے،کے ایم سی نے کراچی کے لیےاہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلی بار روایتی لائٹس کی جگہ سولر پاور اسٹریٹ لائٹس پر منتقل ہوئے ہیں، پہلے فیز میں شارع فیصل سےایئر پورٹ تک سولر پاور پر منتقل کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ شارع ایران اور شارع غالب کو بھی سولر پاور پر منتقل کیا گیا ہے، ایئر پورٹ تک تمام لائٹس سولر ہیں، جن پر1 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائٹس خراب ہونے کی صورت میں کنٹریکٹر کو تلاش کیا جا رہا ہوتا ہے، کنٹریکٹ میں شامل کیا ہےجس کمپنی نے سولر لائٹس لگائیں، وہی اگلے 5 سال تک گارنٹی دے گی۔
میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی سولر پاور لائٹس کے ذریعے سالانہ ڈھائی کروڑ روپے محفوظ کرے گی، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اسٹریٹ لائٹس بند نہیں ہوں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کلین اور گرین انرجی کی جانب پیشرفت کررہی ہے، کے ایم سی کی عمارت کو بھی سولر لائٹس پر منتقل کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگلے فیز میں مائی کلاچی، سر شاہ سلیمان روڈ کی اسٹریٹ لائٹس کو بھی سولر پر منتقل کریں گے، نئے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھ رہے ہیں اور منصوبے مکمل بھی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی نے جو وعدے کیے ہیں، انہیں پورا کریں گے، پیپلزپارٹی کی سوچ کے مطابق دلوں کو جوڑیں گے، ٹارگٹ یہ ہے کہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کی تکمیل کے لیے30 ستمبر کی تاریخ دی تھی، انڈر پاس کا کام تیزی سے جاری ہے، اس کام میں تاخیر ہوئی، خود انجینئر نہیں ہوں کبھی کبھی تاخیر ہوتی ہے،جس پر معذرت چاہتا ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں کہتاہوں 1 ارب سولر لائٹس پر خرچ کیے جماعت اسلامی نے کتنی رقم خرچ کی، سندھ کی خاص بات ہے دلوں کو جوڑتا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فائبر کے ڈھکن کی کوالٹی کو چیک کیا جا رہا ہے، اگر فائبر کے ڈھکن کامیاب ہوگئے تو پورے شہر میں ڈھکن لگائیں گے، یوسی کو ایک لاکھ روپےاضافی اس لیے دے رہے ہیں تاکہ وہ پیسا استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر میں تمام یوسی چیئرمین کو بلاتفریق رقم فراہم کی گئی ہے، کام کریں تاکہ بنیادی مسائل حل ہوسکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کریم ا باد انڈر پاس انہوں نے کہا کہ میئر کراچی نے کام میں تاخیر اسٹریٹ لائٹس سولر پاور کے ایم سی وہاب نے کیا ہے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل