Express News:
2026-07-24@09:38:45 GMT

دو بڑے اتحادیوں کی لمبی اننگز

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے ساتھ لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ ہے اور ہم نے سیاست میں پیپلز پارٹی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور دونوں جماعتوں کا مشترکہ کام مل کر کرنے کا مقصد ملک کو معاشی طور مستحکم کرنا ہے اور وہ خود پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ووٹوں سے اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ 1988 کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم اور میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے جنھیں بالاتروں اور قائم مقام صدر غلام اسحاق کی حمایت حاصل تھی جب کہ بے نظیر بھٹو کو نوابزادہ نصراللہ خان، جے یو آئی و دیگر اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی اور میاں نواز شریف وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ مسلسل مزاحمت اور مخالفت کرتے رہے جس کے بعد سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی سخت سیاسی مخالف رہیں۔ 1990میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو بے نظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے نواز حکومت کی شدید مخالف رہیں۔

1999 تک بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں ایک دوسرے کی سخت مخالفت کرتے رہے اور جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کیا تھا تو بے نظیر بھٹو نے اس کا خیر مقدم کیا تھا مگر بعد میں جنرل پرویز نے نواز شریف کو جلاوطن کیا تو بے نظیر بھی ازخود ملک چھوڑ کر دبئی چلی گئی تھیں اور جنرل پرویز نے مسلم لیگ قائد اعظم 2002ء کے الیکشن میں دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کو توڑ کر بنوائی تھی اور وہ دونوں سابق حکمرانوں کے سخت مخالف رہے اور دونوں کی سیاست ختم کرکے دونوں کو ملک واپس آنے نہیں دے رہے تھے دونوں کی شدید مخالفت نے بے نظیر اور نواز شریف کو مجبور کر دیا کہ دونوں جنرل پرویز کے خلاف متحد ہو جائیں اور دونوں نے لندن میں میثاق جمہوریت کیا تھا کہ آیندہ دونوں پارٹیوں نے الگ الگ حکومت بنائی تو وہ ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت نہیں کریں گی جس کے بعد دونوں پارٹیاں باہمی سیاسی اختلاف ختم کرکے ایک دوسرے کے قریب آئی تھیں۔

2006 میں دونوں پارٹیوں کے درمیان جو میثاق جمہوریت ہوا تھا اس میں2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں نواز شریف کے آصف زرداری سے اختلافات پیدا ہوئے تھے جب صدر آصف زرداری نے ججز بحالی سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ سیاسی معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے جس پر مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت سے الگ ہوگئی تھی جو پہلی بار دونوں بڑی پارٹیوں نے مل کر بنائی تھی جوپیپلز پارٹی کے وعدہ پورا نہ کیے جانے پر ختم ہوئی تھی اور (ن) لیگ کی جگہ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کر لیا تھا کیونکہ انھیں ضرورت تھی اور مسلم لیگ (ق) جس کو آصف زرداری نے قاتل لیگ قرار دیا تھا اس کے چوہدری پرویز الٰہی کو نائب وزیر اعظم کا عہدہ دے کر اپنی حکومت کی اکثریت برقرار رکھی تھی۔

وفاقی حکومت سے علیحدگی کے وقت پنجاب میں (ن) لیگ کی حکومت تھی اور صدر زرداری نے (ن) لیگ کے سخت مخالف سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنایا تھا اور بعد میں اپنے گورنر کے ذریعے پنجاب میں گورنر راج لگوا کر شہباز شریف کی حکومت ختم کرائی تھی جو بعد میں عدالتی حکم پر بحال ہوئی تھی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے صدر زرداری کے خلاف انتہائی سخت بیانات دیے تھے اور نواز شریف کی طرح کبھی صدر زرداری کے استقبال کے لیے نہیں جاتے تھے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان اچھے تعلقات رہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کبھی لاہور آمد پر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لیے نہیں گئے جب کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف تھیں مگر اب دونوں اتحادی ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز آج تک صدر زرداری کے لیے ایئرپورٹ نہیں گئیں۔

(ن) لیگ اور پی پی وفاق میں اتحادی ہیں مگر پی پی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں البتہ وہ معاہدے کے تحت پنجاب میں وزارتوں کی طلب گار ہے مگر ن لیگ راضی نہیں ہو رہی جس کے لیے دونوں پارٹیوں میں پاور شیئرنگ کے لیے گورنر ہاؤس میں متعدد اجلاس بھی ہوئے اور گورنر پنجاب (ن) لیگی حکومت پر تنقید بھی کرتے رہتے ہیں جس کا جواب بھی انھیں لیگی وزیر دیتے رہتے ہیں۔ میاں نواز شریف وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کے درمیان تعلقات بظاہر خوشگوار ہیں اور محترمہ کی شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو کی برسی پر اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں تین رکنی وفد گڑھی خدابخش گیا اور وفد کی صدر زرداری اور بلاول زرداری سے خوشگوار ملاقات بھی ہوئی جس کے بعد ہی اسپیکر نے (ن) لیگ اور پی پی کے درمیان لمبی اننگز کھیلے جانے کی بات کی ہے جو موجودہ حالات میں دونوں کی ضرورت بھی ہے مگر دونوں پارٹیوں کے درمیان جو تنازعات ہیں ان کے حل پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

بانی تحریک انصاف کی برطرفی کے بعد دونوں پارٹیاں حکومت میں اتحادی تھیں مگر جیسے ہی 2024 کے الیکشن کا اعلان ہوا تھا بلاول بھٹو نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز (ن) لیگ پر سخت تنقید سے شروع کیا تھا اور بعد میں معاہدے کے نتیجے میں آصف زرداری صدر اور شہباز شریف وزیر اعظم ہیں مگر پی پی کے (ن) لیگ سے تحفظات برقرار ہیں اور 2024 میں مریم نواز کے بیانات پر دونوں پارٹیوں میں باہمی اختلافات پیدا ہوئے اور صدر سے وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد بیان بازی رکی مگر معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی لمبی اننگز کا کوئی امکان نہیں کیونکہ پی پی پنجاب میں اپنا سروائیول چاہتی ہے جہاں (ن) لیگ اس کی حریف ہے مگر بالاتروں کے باعث دونوں ساتھ چلنے پر مجبور ہیں اور دونوں کی مجبوری پی ٹی آئی بھی ہے جو دونوں ہی کی دشمن ہے اور دونوں ساتھ چلنے پر مجبور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شریف وزیر اعظم نواز شریف وزیر دونوں پارٹیوں صدر زرداری کے ہے اور دونوں بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کی پیپلز پارٹی شہباز شریف جنرل پرویز وزیر اعلی کے درمیان مسلم لیگ دونوں کی کیا تھا ہیں اور تھی اور کے بعد

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم