Express News:
2026-06-03@02:40:58 GMT

کچھ بات ناراض بچوں کی

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

چند برس ہوتے ہیں، میرا بیٹا ماں سے کسی بات پر خفا ہوا تو وہ چلایا:' پیرنٹس نے تو ہمیشہ نیگیٹو بات ہی کرنی ہوتی ہے۔'

بچہ ناراض تھا، یہ تو واضح تھا لیکن اس موقع پر ایک اور بات بھی سمجھ میں آئی۔ یہ اس کا بدلا ہوا لہجہ تھا۔ بالغ مردوں والا لہجہ جس میں گھن گرج ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ بیٹا بچپن کو خیرباد کہہ کر لڑکپن کی سرحد پر جا پہنچا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی مجھے اپنے دوست اشفاق احمد کاشف کی یاد آئی۔ کاشف ایک بار والدین سے خفا ہوا تو اس نے کہا:'میں نے جوانی میں پاؤں رکھا ہے، گٹر میں پاؤں نہیں رکھا۔'

میرے چہرے پر مسکراہٹ کی کرنیں چمکنے لگیں تو بیوی نے احتجاج کیا کہ بیٹا ہاتھ سے نکلا جاتا ہے اور تمھیں ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ یہ واقعہ مجھے قیصر نظامانی اور فضیلہ قاضی کے لخت جگر زورین کی باتیں پڑھ کر یاد آیا اور میں نے سوچا کہ اپنا یار اشفاق احمد کاشف ہو، میرا بیٹا ریان ہو یا زورین نظامانی، یہ تینوں ایک ہی انداز میں تو سوچ رہے تھے، فرق کیا پڑا ہے؟

ایک فرق پڑا ہے۔ اس فرق پر مجھے بات کرنی ہے لیکن اصول یہ ہے کہ پہلے مشترکات یعنی کامن چیزوں پر بات کی جائے۔ تو مشترک بات یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے زمانے میں بزرگوں سے خفا رہے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ دنیا کو جیسے ہم سمجھے ہیں اور جن صلاحیتوں سے اللہ نے ہمیں نوازا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہی ہمارا امتیاز اور فخر ہے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے کام لے کر ہم دنیا کو بدل ڈالیں گے۔ تو کیا ہم نے دنیا بدلی؟

دنیا تو کیا بدلنی تھی، الٹا بومر کا خطاب مل گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بومرز بھی ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور جنریشن زی بھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر عہد کی اپنی زبان اور اصطلاحات ہوتی ہے، لوگ ان ہی میں بات کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بہت کچھ بدل گیا حالانکہ بدلتا کچھ نہیں بس لوگ بدل جاتے ہیں۔ یہ بات ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو 1968 میں سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے ایوب خان کے اقتدار کی چولیں ہلا دیں، اپنے زمانے کی جنریشن زی ہی تھے جیسے بنگلا دیش میں حسینہ واجد کے پندرہ برس پر پھیلے ظلم اور جبر کے نظام کا خاتمہ انھوں نے کیا ہے۔ ان دونوں نسلوں میں فرق صرف عنوان کا ہے۔ پہلے والے نئی ناراض نسل کہلاتے تھے یا اینگری ینگ مین۔ ہمارے بچے جنریشن زی کہلاتے ہیں۔ باقی ساری علامات ایک ہی جیسی ہیں۔ وہی اپنی رائے کی درستی پر اصرار اور اپنی صلاحیتوں نیززور بازو پر اعتماد۔

سوال یہ ہے کہ فرق کیا پڑا ہے؟ فرق زمانے کی رفتار یعنی ٹیکنالوجی کا ہے۔ ' بومرز' پرانے زمانوں کے لوگ تھے، ان کے پاس ایکس، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام نہیں تھا، انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔ لے دے کر ایک فلم تھی جس میں امیتابھ بچن کا ڈائیلاگ گونجا، یوں زمانے نے جانا کہ کوئی اینگری ینگ مین بھی ہوتے ہیں لیکن آج کے بچوں کے ہاتھ میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ایجاد انٹرنیٹ ہے جس کے زور پر آج جو جس جگہ ہے، امیتابھ بچن ہے اور اپنے ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔

ہمارے لخت ہائے جگر یعنی زورین نظامانی اور ان کے ہم عصر بھی یہی کر رہے ہیں۔ کل جب جنریشن الفا اور ان کے بعد جنریشن بیٹا کے پاؤں میں اپنے والدین کا جوتا آنے لگے گا تو وہ بھی اپنے بزرگوں یعنی بومرز کے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو جنریشن زی کر رہی ہے۔ گویا یہ ایک کھونٹا ہے جس میں ہم سب بندھے ہوئے ہیں اور اسی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ کوئی معنوی یا ٹھوس تبدیلی رونما نہیں ہو رہی۔ اس بات کی تفہیم ہمارا آج کرتا ہے۔

حقیقت کیا ہے، اس بحث میں پڑے بغیر ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ پاکستان میں بانی تحریک انصاف جنریشن زی کے نمائندے ہیں۔ انھیں اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے اب تقریباً پندرہ برس ہوتے ہیں۔ چار برس وفاق کی حکومت کے اور تین مدتیں خیبر پختونخوا کی حکومت کی۔ اس صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی تو ہیں بھی جنریشن زی کے آس پاس کے۔ سوال یہ ہے کہ جنریشن زی کے نمائندے بلکہ ہیروز اب تک کیا بدل پائے ہیں؟ اب تک کچھ کر نہ پانے کا عذر اگر یہ ہے کہ کچھ کرنے ہی نہیں دیا گیا تو حقیقت یہ ہے کہ بومرز کے نمائندوں یعنی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی مشکلات بھی ایسی ہی تھیں۔ انھیں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا۔ انھوں نے جیلیں بھی کاٹیں، جلا وطن بھی ہوئے اور جان سے بھی گئے لیکن بدلا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کچھ بدلا کیوں نہیں؟

اس کا ایک سبب ہے۔ سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد کم و بیش آٹھ دہائیاں بیت گئیں، اس عرصے میں ہم نے بہت کچھ کر لیا لیکن ایک کام نہیں کیا۔ پورے شعور کے ساتھ منزل کا تعین کر کے منظم نہیں ہو سکے۔ ترقی اور خوشحالی کی معراج پر پہنچنے کا طریقہ ایک ہی ہے یعنی ذہنی بلوغت۔ آسانی کے لیے اسے سیاسی شعور بھی کہہ لیں تو کوئی حرج نہیں۔ ہماری 80 برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم عوام نے جذبات کی لہروں میں بہہ کر کچھ کیا ہو تو کیا ہو، شعور کے زیر سایہ کچھ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اب تک بے سر و سامان پڑے ہیں۔ ہاں!ایک کریڈیٹ البتہ بومرز کا ہے۔

زمانے کے تھپیڑے کھا کر ایک بات ان کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ انھوں نے جان لیا تھا کہ باہم لڑنے جھگڑنے میں کچھ نہیں رکھا۔ حالات کو بدلنا ہے تو ایک نیا عُمرانی معاہدہ کرنا ہو گا۔ میثاق جمہوریت اسی معاہدے کا دیپاچہ تھا لیکن تبدیلی کے وفور میں اس کے تار و پود بکھیر دیے گئے۔ اس کے بعد جو ہونا تھا، وہی ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس خرابے میں عافیت کی راہ کیا ہے؟

یہ راستہ زیادہ مشکل نہیں۔ بومرز کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ سے مسلح نسل کی بات توجہ سے سنیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک درخواست جنریشن زی سے بھی ہے کہ بومرز کی بات پر بھی تھوڑا سا کان دھرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مان لیا کہ وہ بڑے لوزر ہیں لیکن بہت کچھ لٹا دینے اور بہت سی مار کھانے کے بعد کچھ نہ کچھ وہ بھی جاننے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے بومرز ہوں یا انٹرنیٹ والے، دونوں ایک ہی گاڑی کے پہیئے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ان پہئیوں کا رخ ایک طرف نہیں۔ انھیں ایک طرف کرنا ہے۔ منزل دونوں کی ایک ہے لیکن راستے جدا ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ ضرورت نیا پہیہ ایجاد کرنے کی نہیں، سیدھا راستہ پکڑنے کی ہے۔ یہ کام شعور کا دامن تھام کر تو یقیناً ہو جائے گا لیکن شور شرابے سے الجھن بڑھے گی اور منزل بھی دور ہو گی۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوال یہ ہے کہ انھوں نے کچھ نہیں کے ساتھ ایک ہی کے بعد کچھ کر

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟