کراچی، عید گاہ پولیس کا پیٹرولنگ کے دوران ڈکیتوں سے مقابلہ، 2 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ڈسٹرکٹ سٹی پولیس نے دورانِ پیٹرولنگ تھانہ عیدگاہ کی حدود اسٹیل مارکیٹ نشتر روڈ پر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ڈکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
ترجمان ایس ایس پی سٹی کے مطابق ملزمان اسلحہ کے زور پر شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے کہ پیٹرولنگ پر مامور پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی۔
پولیس کو دیکھتے ہی ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کرلئے گئے۔
مزید پڑھیںکراچی، مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 6 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد
پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے چھینا ہوا بریسلیٹ، موبائل فون، ایک پستول بمعہ راؤنڈز اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر لی، گرفتار ملزمان کی شناخت قربان اور عرفان کے ناموں سے ہوئی ہے۔
زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔