Juraat:
2026-07-24@06:18:34 GMT

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے
جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لیے صوبائی سطح پر احتجاج کی قیادت کا تفصیلی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے پلان کے مطابق پنجاب میں احتجاج کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کریں گے جبکہ خیبرپختونخوا میں احتجاج کے معاملات شاہد خٹک دیکھیں گے۔اسی طرح بلوچستان میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت محمود اچکزئی کریں گے جبکہ سندھ میں احتجاج کے معاملات علامہ ناصر عباس دیکھیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اپنے سندھ کے حالیہ دورے میں احتجاج سے متعلق تمام معاملات فائنل کریں گے ، پروگرام کے مطابق آٹھ فروری کو پورے پاکستان میں احتجاج ہوگا۔اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، البتہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ مذاکرات کرتے رہیں لیکن احتجاج ہر صورت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: احتجاج کی قیادت سہیل ا فریدی کریں گے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان