سکھر: تھانہ تماچانی کی حدود میں فائرنگ سے دو افراد موقع پر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-11-9
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر کے تھانہ تماچانی کی حدود میں فائرنگ، دو افراد جاں بحق، تھانہ تماچانی کی حدود میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔واقعہ فراش موڑ کے قریب پیش آیا جہاں علاج کی غرض سے سکھر آنے والے افراد کی کرولا کار پر کار سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار بالاچ بگٹی اور خمیسو بگٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاشوں کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی کے بعد سول اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعہ مزاری اور بگٹی برادری کے درمیان دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔جاں بحق افراد کا تعلق بلوچستان کے علاقے سوئی سے بتایا جا رہا ہے، جو اپنے عزیز عمر حیات بگٹی کے علاج کے لیے سکھر آ رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا۔پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس گشت مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔