بنگلا دیش، ’’محبت کا زمزم‘‘ کہیں سوکھ نہ جائے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-03-5
بنگلا دیش جب مشرقی پاکستان کے طور پر آخری ہچکیاں لے رہا تھا تو معروف صحافی الطاف حسن قریشی نے ڈھاکا کے دورے کے بعد اْردو ڈائجسٹ کی کور اسٹوری ’’محبت کا زمزم بہہ رہا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع کی تھی۔ جس کا خلاصہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان یا متحدہ پاکستان کے لیے محبت کے جذبات کا طوفان مچل رہا ہے۔ پاکستان میں حسینہ واجد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستان کے لیے بنگلا دیش میں ایک بار پھر امکانات کی ایک نئی دنیا دریافت ہو رہی ہے۔ حسینہ واجد نے نریندر مودی کی خواہشات کے تابع بنگلا دیش میں پاکستان کی اسپیس مکمل طور پر ختم کر دی تھی اس لیے یہ سب کچھ نیا اور مختلف لگ رہا ہے وگرنہ ناخوش گوار اور خونیں علٰیحدگی کے باوجود بنگلا دیش کے ایک بڑے طبقے میں پاکستان کے لیے اچھے جذبات بھی موجود رہے ہیں۔ حسینہ واجد نے ان جذبات کو طاقت کے ذریعے قالین تلے دبائے رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ پاکستان کے لیے برسوں بعد سفارتی تجارتی اور سیاحتی پیش قدمی یا موجودگی تو ضرور ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کے سارے زخم مندمل ہونے اور سارے فیصلوں کے ریورس ہونے کا وقت آگیا ہے۔ بنگلا دیش میں طلبہ کا حالیہ انقلاب جمے جمائے نظام کے خلاف برپا ہوا۔ بنگلا دیش کی جین زی نے معاشی بہتری پر آزادی اقتدار اعلیٰ اور قومی خودمختاری کو ترجیح دی کیونکہ یہ بنگالی مسلمانوں کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہ ان کی شناخت اور حیثیت کے حوالے سے حساسیت ہے جب اور جہاں انہیں یہ خطرے میں نظر آتی ہے وہ مصلحت کو بالائے طارق رکھ کر میدان میں نکل آتے ہیں۔ حسینہ واجد جس تیزی سے بھارت کے زیر اثر آرہی تھیں اس نے جین زی کو منقا زیر پا بنادیا اور انہوں نے سڑکوں پلوں کی تعمیر اور صنعتی اور معاشی بہتری کے مظاہر کو ٹھوکر ماردی۔ بنگلا دیشی عوام کی یہ حساسیت ہر کسی کے لیے سبق ہے۔
پاکستان کے حکمران طبقات کا المیہ یہ ہے کہ یہ امکانات سے فائدہ نہیں اْٹھا سکتے۔ آج کا افغانستان اس کی زندہ مثال ہے جہاں پاکستان کی ساکھ اور امن کا چرخہ جلا کر جتنوں سے پکائی ہوئی طالبانی کھیر آج بھارت مزے لے کر کھا رہا ہے۔ ہم خود کو ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب محصور کر کے یہ منظر دیکھنے کا جبر سہنے پر مجبور ہیں۔ اس لیے بنگلا دیش میں آگ کا ایک سمندر ہے جس میں محتاط ہو کر ہر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت آج بنگلا دیش میں عوامی سطح پر اجنبی اور معتوب ہے۔ بھارت کے لیے یہ صورت حال نئی نہیں ابھی چند ہی برس پہلے جب وہ کابل سے جہازوں میں بھر کر اپنے انسانی اثاثوں کو دہلی منتقل کر رہا تھا تو منظر بھی ایسا ہی تھا اور خوف اور خدشات کا بھی یہی عالم تھا مگر ہم اس امکان سے فائدہ نہ اْٹھا سکے اور آج وہ دوبارہ کابل میں ’’راجا اندر‘‘ بنا پھرتا ہے۔ خالدہ ضیاء کی موت کو بھارت نے حالات کا پانسہ پلٹنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ وہی خالدہ ضیاء تھیں جنہیں بھارتی ایما پر حسینہ واجد نے پروپاکستان قرار دے کر طویل قید میں ڈالا یہاں تک وقت کا دیمک انہیں اندر ہی اندر کھاگیا۔ وہی خالدہ ضیاء انتقال کرگئیں تو نریندر مودی نے ٹویٹر پر آہ وبکا کا ایک منظر بنا دیا۔ انہوں نے اپنے ایک دورہ بنگلا دیش میں خالدہ ضیاء کے ساتھ تصویروں کو ٹویٹ کرکے لکھا کہ خالدہ ضیاء کا ویژن اور وراثت ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے۔ یہ وہی ویژن اور وراثت تھی جسے ان کی سرپرستی میں حسینہ واجد کچل ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے وزیر خارجہ جے شنکر کو خالدہ ضیاء کے جنازے میں بھیجنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق الرحمن جب بنگلا دیش ائر پورٹ پر اْترے تو انہو ں نے استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یا بھارت نہیں بنگلا دیش ہماری ترجیح ہوگی۔ طارق الرحمن کا یہ بیان ایک شاخ زیتون تھی جو بھارت کی جانب اْچھالی گئی تھی۔
موجودہ ماحول میں خالدہ ضیاء کی جماعت کو پروپاکستان جماعت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو برسر اقتدار آکر بھارت کا اثر رسوخ مزید محدود کردے گی۔ طارق الرحمن نے اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی۔ ان کا دوسرا مسئلہ بنگلا دیش کا ہندو ووٹر ہے جو کئی حلقوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ہند وووٹر کی پسندیدہ اور لبرل جماعت عوامی لیگ منظر سے غائب ہے تو ایسے میں بنگلا دیش کی سیاست کے دو پول کچھ یوں بن گئے ہیں کہ ایک طرف بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے تو دوسری طر ف جماعت اسلامی اور طلبہ تحریک کا اتحاد ہے۔ اس ماحول میں ہندو ووٹر کے لیے واحد آپشن بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی رہ گئی ہے۔ ماضی میں خالدہ ضیاء کو یہ گلہ رہا کہ بنگلا دیش کا ہندو ووٹر تمام تر ناز برداریوں کے باوجود ان کی جماعت کے قریب آنے سے گریزاں رہتا ہے۔ خالدہ ضیاء نے 2014 کے انتخابات میں اس کرب کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ہندو بدھسٹ فورم کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے ہندووں کو ہر طرح اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کی مگر مجھے ان کا دل جیتنے میں ناکامی ہوئی۔ میں نے گوئے شور چندرا کو ڈھاکا سے اور چندرارائے کو کرانی گنج سے ٹکٹ دیا ان حلقوں میں ہندوؤں کی اتنی تعداد تھی کہ وہ میرے امیدواروں کو کامیاب بنا سکتے تھے مگر انہوں نے میرے ہندو امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا بلکہ ایک سیٹ پر عوامی لیگ کا ہندو اور دوسری پر عوامی لیگ کامسلمان امیدوار کامیاب ہوا۔ اپنے ایک رکن کابینہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گوتم پال کو کابینہ کے رکن کے طور پر بہت سے مواقع فراہم کیے مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
ان کی اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بنگلا دیشی دانشورنے لکھا کہ 2026 میں ہندو ووٹر بڑے پیمانے پر بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو ووٹ دینے جا رہا ہے مگر خالدہ ضیاء موجود نہیں۔ خالدہ ضیاء کے یہ دونوں غیر مسلم امیدوار ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ اس بار بی این پی کے مسلم آزاد امیدوار ان دونوں کو ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوں عوامی لیگ کے منظر سے غائب ہوجانے سے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کا مخمصہ بڑھ گیا ہے انہیں جماعت اسلامی اور طلبہ تحریک سے فاصلہ بھی رکھنا ہے۔ خود کو پروپاکستان چھاپ سے بچانا بھی ہے اور ہندو ووٹر کو اپنی جانب کھینچنا بھی ہے۔ظاہر ہے کہ طارق الرحمن خود کسی انقلاب کے نتیجے میں واپس نہیں آئے بلکہ وہ کسی اور کے برپا کردہ انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے فیضیاب ہونے جا رہے ہیں اس لیے ناہید الاسلام اور طارق الرحمن کے لہجوں اور پالیسیوں میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ اس فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی آمد میں بین الاقوامی ضمانتیں بھی شامل ہوں گی۔ بین الاقوامی ضمانتوں کا ہی نتیجہ ہوسکتا ہے کہ خالدہ ضیاء کے جنازے میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان اتفاقیہ ٹائپ ملاقات بھی ہوئی گرم جوش مصافحہ بھی ہوا۔
یہ مصافحہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی منجمد برف کو پگھلانے کے لیے اسلام آباد کی سارک کانفرنس میں واجپائی مشرف مصافحہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور پاکستان کی طرف سے اس بات کا اظہار بھی کہ وہ بنگلا دیش کی عوامی قبولیت کو بھارت کا قافیہ مکمل طور پر تنگ کرنے کے لیے اس طرح استعمال نہیں کرے گا جس طرح کا مظاہرہ بھارت نے حسینہ واجد کے ذریعے جا ری رکھا۔ یوں بھارت کو عوامی سطح پر تو نہیں مگر ریاستی سطح پر اپنی اسپیس کسی حد تک واپس مل سکتی ہے اور عین ممکن ہے اس کے بدلے بھارت افغانستان میں پاکستان کو کچھ اسپیس لوٹانے پر تیار ہوجائے۔ اس لیے بنگلا دیش میں پھوٹ پڑنے والے محبت کے تازہ زمزمے کو زمینی حقائق کی روشنی میں ہی دیکھنا ہوگا۔ جتنی اسپیس حالات نے پاکستان کے لیے پیدا کی ہے اسے کامیابی اور مہارت سے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ الگ بات کہ ہماری تاریخ کی فائلوں اور کتابوں میں ایسے امکانات سے فائدہ اْٹھانے اور ایسے مواقع کو مہارت سے استعمال کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی پاکستان کے لیے خالدہ ضیاء کے بنگلا دیش میں طارق الرحمن حسینہ واجد عوامی لیگ ہندو ووٹر انہوں نے بھارت کے کی کوشش اس لیے نہیں ا رہا ہے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔