data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-03-7
(4)
’’اسلامی دستور‘‘ رکھنے والی ’’اسلامی ریاست‘‘ میں آبادی گھٹانے اور پیدائش سے پہلے بچوں کے قتل ِ عام کا پروگرام وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری محکموں میں جاری ہے۔ حکومت اب ایک بل لانے والی ہے تاکہ اسے قانونی طور پر نافذ کیا جائے۔ دہائیوں سے آبادی کم کرنے، بلکہ ختم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ کالم میں ہم نے وفاقی اداروں کا ذکر کیا تھا۔ اس کالم میں صوبائی اداروں کی بات کرتے ہیں۔
ہر صوبے کا اپنا محکمہ بہبود آبادی ہے، جو وزارتِ قومی صحت امور، ضابطہ کاری اور رابطہ کاری کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ یہ دیہی اور شہری علاقوں میں خاندانی بہبود مراکز، تولیدی صحت خدمات اور شعور بیداری کے پروگرام چلاتے ہیں۔ صوبوں میں کارکردگی مختلف ہے: پنجاب سب سے زیادہ فعال ہے، جبکہ بلوچستان میں کمزور۔
پنجاب محکمہ بہبود آبادی میں خاندانی بہبود مراکز کے نام سے دو ہزار سے زیادہ مراکز قائم ہیں، جہاں مانع ِ حمل ادویات کی دستیابی، ’’شعور‘‘ بیداری سیمینارز اور محکمہ ٔ صحت و آبادی کا انضمام ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے اجلاس میں اعلان ہوا کہ دو ہزار سے زیادہ بنیادی صحت یونٹس قائم کیے گئے؛ پنجاب سب سے مؤثر صوبہ ہے، لیکن دیہی علاقوں میں چیلنجز موجود ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ تحریک ِ انصاف کی حکومت میں بھی آبادی کنٹرول سیمینار ہوا تھا۔ اس میں مولانا طارق جمیل نے پنجاب کی دیہی عورتوں کا مذاق اُڑایا تھا کہ انہیں بچے پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ یہ ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی۔ اس سے ہمارے علماء کی علمی اور ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنجابی دیہی عورت کی بات ہوئی ہے تو ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔ چند سال پہلے عمرہ کے سفر میں پنجاب کی ایک دیہی عورت کو دیکھا جو حرم کے قریب ایک ایمرجنسی اسپتال کی طویل انتظار گاہ میں کھڑی تھی۔ وہ کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی، نہ بیٹھ پا رہی تھی، اس کے پاؤں میں ورم تھا اور سوج کر موٹے ہو چکے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ خانہ کعبہ کے گرد مسلسل طواف کر رہی تھی۔ جب پاؤں جواب دے گئے اور تھک کر گر گئی تو کسی طرح گھسٹ کر یہاں تک پہنچی۔ ڈاکٹروں نے اسے ایمرجنسی کیس ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ صرف کھانسنے اور سانس کی تکلیف والے مریضوں کو ہی لیا جا رہا تھا۔ عورت سے بات کی تو پتا چلا کہ وہ محنت مزدوری کرکے پیسے جمع کرتی ہے اور ہر سال عمرہ کے لیے آتی ہے۔ عمرہ اور سیکڑوں طواف سے اس نے اپنی یہ حالت بنا لی۔ اس وقت بھی اس کا دل حرم میں لگا ہوا تھا کہ کیسے ٹھیک ہو کر جلدی وہاں پہنچے۔ اس دیہی عورت کے مقام و مرتبے کو یہ علماء جان ہی نہیں سکتے۔
محکمہ آبادی بہبود سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بحالی، خاندانی منصوبہ بندی مہمات اور دیہی صحت خدمات؛ سندھ میں دو سو ساٹھ سے زیادہ بہبود مراکز ہیں۔ 2023-24 کی رپورٹ کے مطابق کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، لیکن سیلابوں اور غربت کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔
خیبر پختون خوا محکمہ بہبود آبادی میں خاندانی منصوبہ بندی کو بنیادی صحت میں ضم کرنا، شعور بیداری مہمات اور نوجوانوں پر توجہ؛ دو سو ساٹھ سے زیادہ بہبود مراکز۔ محکموں کا انضمام مؤثر ہے؛ 2025 میں اضافہ ہوا، لیکن قبائلی علاقوں میں رسائی کم ہے۔ شاید اسی لیے وہاں ’’دہشت گردی‘‘ کے نام پر فوجی آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ کیا یہ بھی آبادی گھٹانے کی مہم ہے؟
بلوچستان محکمہ بہبود آبادی میں دیہی علاقوں کے لیے موبائل یونٹس، مانع ِ حمل ادویات کی فراہمی اور صحت کی تعلیم؛ محدود مراکز، سو سے زیادہ۔ یہاں کارکردگی کمزور ہے کیونکہ جغرافیائی چیلنجز اور فنڈز کی کمی ہے؛ تاہم بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بہبود آبادی کے محکمے علاقائی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی خدمات، شعور بیداری اور وفاقی پروگراموں کی عملداری کرتے ہیں۔ کارکردگی وفاقی امداد پر منحصر ہے؛ آزاد جموں و کشمیر میں بہتر اور گلگت بلتستان میں کم ہے۔ آبادی کم کرنے کے ان طریقوں کے علاوہ ’’عورتوں کی ترقی‘‘، عورتوں کو طاقت ور بنانا (Women Empowerment)، عورتوں کی ہر تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم میں (جہاں مرد زیادہ ہوتے ہیں) زیادہ سے زیادہ شرکت، فیمینزم (Feminism) کا فروغ، ہم جنس پرستی کی زندگی کا طرز اور ٹرانس جینڈر قوانین کے ذریعے اس کا پرچار، یہ سب شامل ہے۔
ہزاروں بیرونی فنڈز والی غیر سرکاری تنظیمیں اس کے لیے کام کر رہی ہیں۔ عورتیں اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور ملازمتوں کے بازار میں آئیں گی تو قدرتی طور پر شادی میں تاخیر ہوگی یا شادی کا امکان ختم ہو جائے گا اور وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہیں گی۔ فیمینزم کے نتیجے میں عورتوں کی گود بچوں سے محروم ہو گئی، اس کا خمیازہ مغرب نے بھگت لیا اور اب وہاں اس کے خلاف ردِعمل شروع ہو چکا ہے۔ جرمنی کی ایک مشہور فیمینسٹ رہنما نے جرمن زبان میں کتاب لکھی جس میں بتایا کہ فیمینزم کی تحریک نے ان کی نازک صنف کو برباد کر دیا اور ان کی گود کو بے اولاد رکھا۔ کتاب کا نام “Das Eva-Prinzip.
افغانستان میں کام کرنے والے ایک امریکی ایجنٹ کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کو افغانستان، پاکستان اور دنیا بھر کی مسلم لڑکیوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر امریکا اور مغربی ممالک نے بہت مضبوطی سے پیش کیا ہے۔ اسے آکسفورڈ میں پڑھایا گیا، اس کے نام سے کتاب لکھوائی گئی اور سب سے کم عمر میں نوبل انعام دلوایا گیا۔ ملالہ کا رول ماڈل یہ ہے کہ لڑکی ہر طرح سے آزاد ہے، اس کا جسم اس کی مرضی ہے، نکاح کی کوئی ضرورت نہیں اور بچے کی پیدائش تو دنیا پر بوجھ ہے ہی۔ افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومتوں (کرزئی اور غنی کے دور میں) لڑکیوں کے اسکولوں کا جال بچھایا گیا۔ اس کے لیے نصاب اور کتابیں امریکا میں تیار ہوتی تھیں، جو افغانی مغربی ماہرین بناتے تھے۔ یہ کتابیں اسی جہاز میں آتی تھیں جس میں پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں، فوجیوں اور جنگجو سرداروں کو تقسیم کرنے کے لیے ہر ماہ امریکی ڈالرز جاتے تھے۔ ان باتوں کا اچھی طرح علم کینیڈین صحافی ایرک مارگولس کو بھی ہے۔
افغانستان میں لڑکیوں کے لیے یہ تعلیمی نظام اور اسکولوں کا جال ایک ہی مقصد رکھتا تھا کہ مستقبل کی افغان عورتیں مجاہدین پیدا کرنے کے لائق نہ رہیں۔ وہ مغرب کے رنگ میں ڈوب جائیں جہاں خاندانی نظام بہت پہلے ٹوٹ چکا ہے۔ اگر غور کریں تو لڑکیوں کا یہ تعلیمی نظام ایک ٹائم بم تھا جو افغان نسلوں کو مٹانے
کے لیے لگایا گیا۔ وہ ان بموں سے کہیں زیادہ خطرناک تھا جو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بیس سال تک افغانوں پر برسائے اور جس کے لیے پاکستان نے اپنی تمام زمینی، بحری اور ہوائی سہولتیں مہیا کی تھیں۔ شکر ہے کہ افغان حکومت (امارت اسلامی افغانستان) نے اسے بروقت سمجھ لیا اور ان اسکولوں کو بند کر دیا۔ اسی پر امریکا، مغربی ممالک اور ان سے متاثر پوری دنیا، حتیٰ کہ ’’اسلامی‘‘ کہلانے والے حلقے بھی طالبان کے مخالف ہو گئے کہ وہ طالبان کو لڑکیوں کی تعلیم کا دشمن کہنے لگے۔ حالانکہ طالبان اس شریعت پر پوری طرح کاربند ہیں جو علم ِ وحی کے ماخذ قرآن و سنت سے ہم تک پہنچی ہے۔ اسلامی شریعت نے مرد اور عورت کے کردار الگ رکھے ہیں، کہیں مرد کا مرتبہ زیادہ اور کہیں عورت کا۔ مرد کو معاشی ذمے داریاں اور عورت کو بچوں کی پیدائش، تعلیم تربیت اور نگہداشت کے لیے بنایا گیا ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کی تخلیق میں عورت کو شامل کیا جو کسی مخلوق کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اسی لیے ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
طالبان یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے لڑکوں اور لڑکیوں کا الگ تعلیمی نظام بنائیں گے۔ جب بنا لیں گے تو ان اسکولوں میں شریعت کے مطابق تعلیم دی جائے گی۔ دونوں کی تعلیم الگ ہوگی اور مضامین بھی الگ، لیکن امریکا اور اس کے پاکستانی کٹھ پتلیوں کو اس سے شدید تکلیف ہے۔ اگر افغان حکومت مغرب، پاکستان یا بھارت کے دباؤ میں آ کر وہی تعلیمی نظام چلانے لگے تو یہ ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اسلام آباد کے ’’آبادی مٹاؤ اجلاس‘‘ میں مرکزی جمعیت علمائے اسلام اور اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد میں خاندانی نظام، ماں اور بچے کی صحت کی حفاظت اور خاندانی منصوبہ بندی کو ’’اسلامی ذمے داری‘‘ قرار دیا گیا۔ بچوں کی صحت کے لیے پیدائشی فاصلہ رکھنا والدین کی ذمے داری کہا گیا؛ ان علماء نے پیدائش کنٹرول کی شعور بیداری، سیشن اور مہمات کا اعلان کیا۔
جاوید انور
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تعلیمی نظام بہبود مراکز دیہی عورت کی تعلیم سے زیادہ کرنے کے اور اس کر دیا کام کر کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔