وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد پہلا پیر، تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی یا اضافہ؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کے بعد ایشیا کے اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے ساتھ بڑھیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 0.2 فیصد بڑھ کر $60.87 تک پہنچ گئے، کیونکہ سرمایہ کار امریکی مداخلت کے اثرات اور اوپیک (OPEC) کے فیصلے کا جائزہ لے رہے تھے کہ وہ پیداوار کو برقرار رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا امریکی حملہ ممکن ہے، صدر ٹرمپ کا اعلان
سرمایہ کار اس ہفتے کے اقتصادی ڈیٹا کے اجرا سے قبل وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے اثرات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ وینزویلا عارضی طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مادورو کی گرفتاری کے فوری اقتصادی اثرات محدود ہوں گے، لیکن سیاسی اور جغرافیائی سیاسی اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ وینزویلا کی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور انجینئرنگ کی ضرورت ہوگی، اس لیے فی الحال تیل کی قیمتیں اضافے کی راہ پر رہ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
ایشیا کی دیگر مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی، جیسے جاپان کا نکی 225 انڈیکس 2.
ماہرین نے خبردار کیا کہ سیاسی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال تیل کی قیمتوں کو حمایت فراہم کر سکتی ہے اور قیمتی دھاتوں جیسے سونا بھی مارکیٹ میں مضبوط رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی حملہ وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی حملہ وینزویلا تیل کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔