آئی ایم ایف کی نشاندہی کے بعد اقتصادی گورننس کے لیے کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وزیراعظم نے اقتصادی گورننس سسٹمز بہتر بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کو 15 رکنی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، یہ کمیٹی وزیراعظم کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے اور ہر تین ماہ بعد اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
کمیٹی میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری منصوبہ بندی شامل ہیں جبکہ سیکرٹری ایس آئی ایف سی، سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی ارکان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
چیئرمین ایس ای سی پی، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین سی سی پی کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ایم ڈی پیپرا، ڈی جی ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈیشنل آڈیٹر جنرل بھی ارکان میں شامل ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے اور وزارت خزانہ کمیٹی کو انتظامی معاونت فراہم کرے گی۔
یاد رہے کہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ نومبر 2025 میں جاری کی گئی تھی، جس میں آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ گورننس میں بہتری سے پاکستان کو نمایاں معاشی فائدہ ہو سکتا ہے اور اصلاحاتی پیکج پر عملدرآمد سے جی ڈی پی میں پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔