Islam Times:
2026-07-24@06:17:45 GMT

بھارت میں عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملے

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

بھارت میں عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملے

آل انڈیا کیتھولک یونین نے کہا کہ عیسائیوں کو اتر پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ سمیت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں عیسائیوں کی تنظیم ”آل انڈیا کیتھولک یونین” (اے آئی سی یو) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پورے ملک میں عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور دھمکیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور قابل اعتماد اقدامات کرے۔ ذرائع کے مطابق اے آئی سی یو کے صدر انجینئر الیاس ویز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا نے اور نفرت کے گہرے ہوتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اتحاد، تعلیم اور اصولی موقف کے ذریعے ایک ایسے بھارت کے لیے کام کرنا چاہیے جہاں تنوع کا احترام کیا جائے اور ہر شہری کے حقوق نفرت اور امتیاز سے محفوظ ہوں۔ 106 سالہ پرانی تنظیم نے کہا کہ عیسائیوں کو اتر پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ سمیت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔ مذہبی تشدد پر نظر رکھنے والی تنظیموں کے مطابق بھارت میں جنوری سے نومبر 2025ء کے درمیان عیسائیوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کے 706واقعات رپورٹ ہوئے۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ 183واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد چھتیس گڑھ میں تقریبا 156واقعات ہوئے۔ ان میں جسمانی تشدد اور گرجا گھروں پر حملوں سے لے کر عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے اور دعائیہ اجتماعات میں خلل ڈالنے تک کے واقعات شامل ہیں۔

کرسمس کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا اور صرف شمالی بھارت میں 20 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔میڈیا رپورٹس میں کیرالہ میں کیرول گلوکاروں پر حملوں، چھتیس گڑھ میں کرسمس کی سجاوٹ کی توڑ پھوڑ اور مدھیہ پردیش میں عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک مقامی سیاسی رہنما کی طرف سے بصارت سے محروم ایک خاتون پر حملہ شامل ہے۔ کرسمس کے بائیکاٹ اور تہوار کی اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کو دھمکیاں دینے والے پوسٹرز بھی رپورٹ ہوئے۔ آل انڈیا کیتھولک یونین نے محدود ردعمل پر حکومت پر تنقید کی۔ تنظیم نے کہا کہ کرسمس کی تقریبات میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن اور وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت کے باوجود تشدد کے خاتمے کی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔

پراسیکیوشن نایاب ہے اور روک تھام کمزور ہے۔ تنظیم نے تشدد کی وجہ سنگھ پریوار سے وابستہ سیاسی کارکنوں اور تنظیموں کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر اور تعصب پر مبنی بیان بازی اور 12ریاستوں میں انسداد تبدیلی مذہب قوانین کے غلط استعمال کو قرار دیا۔ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) کے تحت انتظامی دبائو کا بھی حوالہ دیا گیا جس سے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والی عیسائی این جی اوز متاثر ہوئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رپورٹ ہوئے چھتیس گڑھ بھارت میں نے کہا کہ

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق