رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے معاملے میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہو ہائیکورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت جسٹس ملک اویس خالد نے کی، درخواست گزار کی طرف سے شازب مرزا اور دیگر وکلا پیش ہوئے،
عدالت نے پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت نے حکم امتناعی کی درخواست پر بھی وائس چیرمین پنجاب بار کونسل کو نوٹس جاری کردیا۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ درخواست گزار کو بغیر نوٹس دیے اور سنے بغیر لائسنس معطل کیا گیا، کیا کسی وکیل کو سنے اور نوٹس دیے بغیر لائسنس معطل کیا جاسکتا ہے۔
پنجاب بار کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست قابل سماعت نہیں، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست آنے پر کسی وکیل کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، ایگزیکٹو کمیٹی نے لائینس معطل کیا جب کہ ایگزیکٹو کمیٹی کو یہ اختیار نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ اختیار صرف پنجاب بار کونسل کے ٹربیونل کو ہے۔
یاد رہے کہ دالت نے درخواست میں کراچی بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے پنجاب بار کونسل کے لائسنس معطلی کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے۔
جس میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب بار کونسل نے درخواست گزار کا لائسنس معطل کر دیا ہے، پنجاب بار کونسل نے وکالت کا لائسنس حقائق کے برعکس معطل کیا۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت لائسنس معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے اور درخواست گزار وکیل کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دے۔
عدالت نے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال کرنے کی وکلا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست پر سماعت 6 جنوری تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب بار کونسل کے میاں علی اشفاق درخواست گزار لائسنس معطل کا لائسنس معطل کیا کے وکیل
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔