وینزویلا پر امریکی کارروائی میں ہمارے 32 اہلکار ہلاک ہوئے: کیوبا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کیوبا کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کے دوران ان کے 32 اہلکار ہلاک ہوئے۔
ہوانا نے اپنے بیان میں کہا کہ وینزویلا میں ہلاک ہونے والے کیوبا کے سیکیورٹی اہلکاروں کی یاد میں آج اور کل دو روزہ سوگ منایا جائے گا اور اس دوران ہلاک ہونے والوں کی آخری رسمیں ادا کرنے کا اعلان کریں گے۔
کیوبا کی سرکاری نیوز ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی آپریشن میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں، وہ وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر فوجی مشن کا حصہ تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق کیوبا وینزویلا کا قریبی اتحادی ہے اور اس نے برسوں سے وینزویلا میں کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنی فوج اور پولیس کے دستے بھیجے ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو کا کہنا تھا کہ امریکی کمانڈوز کی اس کارروائی میں، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، ان کی سیکیورٹی ٹیم کا بڑا حصہ ہلاک ہوا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پیڈرینو نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔