علی ساہی: ٹریفک وارڈنز کے رویے کی مانیٹرنگ اور چالان کے نظام کو ویڈیو شواہد سے مشروط کرنے کے لیے 8 ہزار جدید باڈی کیم خریدنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ہر چالان کے ساتھ ویڈیو شہادت لازمی ہوگی، جس کے لیے وارڈنز کو باڈی کیمرے فراہم کیے جائیں گے۔ ان جدید کیمروں میں نائٹ ویژن اور آواز کی ریکارڈنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی تاکہ دن اور رات ہر وقت واضح ویڈیوز ریکارڈ کی جا سکیں۔ ان کیمروں کے ذریعے نہ صرف چالان کی ویڈیو بنائی جائے گی بلکہ وارڈنز اور شہریوں کے رویے کی بھی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے

اُن  کا مزید کہنا تھا کہ ہرچالان پر متعلقہ شہری کے موبائل نمبر پر کیو آر کوڈ کے ذریعے ویڈیو بھیجی جائے گی، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ تمام باڈی کیمرے ضلعی کنٹرول رومز اور سنٹرل کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک  کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر 3 ہزار باڈی کیمروں کی خریداری مکمل کر لی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ کیمروں کی خریداری رواں مالی سال میں مکمل کر لی جائے گی۔ اس اقدام سے ٹریفک قوانین کے نفاذ اور عوامی اعتماد میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: جائے گی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی