یونان کی فضائی حدود میں اچانک خرابی، یورپ بھر میں ہزاروں مسافر پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
یورپ بھر میں ہزاروں مسافر مشکلات کا شکار ہو گئے جب یونان کی فضائی حدود میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔
ریڈیو فریکوئنسی نظام میں خرابی کے باعث یونان کے بیشتر ہوائی اڈوں پر فضائی ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی، جس سے تعطیلات کے اختتامی دنوں میں سفر کرنے والے ہزاروں افراد پھنس گئے۔
یونانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق صبح کے وقت شروع ہونے والی خرابی نے جلد ہی بڑے پیمانے پر اثر ڈالا، جس کے باعث ہوائی اڈوں پر آپریشن تقریباً مکمل طور پر رک گیا۔
اگرچہ یونان اور خطے کی فضائی حدود سے گزرنے والی کچھ پروازوں کو محدود اجازت دی گئی، تاہم بیشتر پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار رہیں۔
حکام کے مطابق دوپہر کے بعد پائلٹس نے بیک اپ فریکوئنسیز استعمال کرنا شروع کیں، جس کے بعد جزوی طور پر فضائی آمد و رفت بحال ہوئی۔ تاہم اتوار کی شام تک بھی حکام خرابی کی اصل وجہ معلوم نہ کر سکے۔
مزید پڑھیںیونان کے قریب بڑا ریسکیو آپریشن، 131 تارکینِ وطن سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیے گئے
یونان میں کسانوں کے مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں
ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا کہنا ہے کہ اچانک تمام اہم فریکوئنسیز بند ہو گئیں جس کے باعث فضا میں موجود طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
یونانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تنظیم نے واقعے کو فضائی نظام کے لیے غیر معمولی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والا تکنیکی سامان انتہائی پرانا ہے اور اس مسئلے کی نشاندہی ماضی میں کئی بار کی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق شام تک فی گھنٹہ روانہ ہونے والی پروازوں کی تعداد 45 تک پہنچا دی گئی۔
دوسری جانب روس کے دارالحکومت ماسکو میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کے خدشے کے باعث ماسکو کے چار میں سے تین ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
روسی حکام کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت یہ پابندیاں لگائی گئیں، جس کے بعد کچھ ہی دیر میں ہوائی اڈے جزوی طور پر دوبارہ کھول دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔