وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز) وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد تیل کی قیمتیں گرگئیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.63 فیصدکمی ہوئی ہے اور 60.37 ڈالرفی بیرل میں فروخت ہوا ہے۔اس کے علاوہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 0.
ڈبلیوٹی آئی خام تیل کی فی بیرل قیمت 56.92 ڈالرہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کوگرفتار کرکے امریکا منتقل کر دیا۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں دھماکے ہوئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا، وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں کم ازکم 7 دھماکے ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملک بھارت نے یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملک پتنگ بازی کی اجازت کا نوٹیفکیشن، پولیس حکام کو حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت وینزویلا تیل تک رسائی دے، ٹرمپ،دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ برقرار، ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور چین اور پاکستان کا سی پیک کی تعمیر کو آگے بڑھانے پر اتفاق محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے تیل کی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔