وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی عدالت میں پہنچا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق انھیں منشیات کے انسداد کے امریکی ادارے (ڈی ای اے) کے متعدد اہلکاروں کی نگرانی میں لے جایا جا رہا ہے۔ وہ ایسے لباس میں نظر آ رہے ہیں جو قیدیوں کے یونیفارم معلوم ہوتے ہیں، اور مادورو ہلکا سا لنگڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی فوجیوں کی کارروائی کے نتیجے میں پکڑ کر امریکہ لائے جانے والے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی اس عدالت میں پہنچا دیا گیا ہے، جہاں آج ان کے خلاف عائد الزامات پڑھ کر سنائے جائیں گے۔ مین ہیٹن میں ایک خاتون کے ساتھ مادورو کو ہیلی کاپٹر سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ خاتون بظاہر ان کی اہلیہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انھیں منشیات کے انسداد کے امریکی ادارے (ڈی ای اے) کے متعدد اہلکاروں کی نگرانی میں لے جایا جا رہا ہے۔ وہ ایسے لباس میں نظر آ رہے ہیں جو قیدیوں کے یونیفارم معلوم ہوتے ہیں، اور مادورو ہلکا سا لنگڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔