روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔
تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نواز اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نواز حکومت نے فوری طور پر احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی، ایران برفباری کے دوران جان و مال کا تحفظ کیلئے انتظامیہ متحرک رہی،ڈی پی او مری آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، حکومت نے مالی جھٹکوں سے بچنے کیلئے نیا نظام متعارف کرادیا وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں بھارت نے یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: روسی تیل کی خریداری
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔