پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ اعزازیہ صرف ذمہ دار اور قانون کے پابند علماء کو دیا جائے گا، نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کی تجاویز پر پالیسی کی منظوری دےدی، جس کے مطابق ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنے والے افراد کے اعزازیے فوری بند اور سخت کارروائی ہو گی۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ اسکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کا فروغ ہے، قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، نفرت انگیز مواد یا تقاریر ثابت ہونے پر فہرست سے فوری اخراج ہوگا۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی، صوبے کے 66 ہزار امام مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلیئر قرار دے دیے گئے، ان کے خلاف کوئی ریاست مخالف سرگرمی ثابت نہیں ہوسکی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اعزازیہ فہرست کی باقاعدہ اسکریننگ اور مانیٹرنگ جاری رہے گی، مستقبل میں بھی اعزازیہ دینے سے پہلے سخت جانچ پڑتال ہوگی، امن عامہ متاثر کرنے والے عناصر کی سرکاری سرپرستی نہیں ہوگی۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت کا انتہا پسندی کے خلاف سخت مؤقف ہے، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ناگزیر قرار دیا گیا ہے، اعزازیہ اسکیم کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون کے دائرے میں رہ کر مذہبی سرگرمیوں کی مکمل آزادی برقرار ہوگی، ریاست مخالف بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں، واضح پالیسی بیان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔