وزیراعظم کا دورہ ہائی کمیشن، بیگم خالدہ ضیا کی وفات پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-01-11
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت کے لیے عوامی جمہوریہ بنگلادیش کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے بنگلا دیش کے ناظم الامور سے ملاقات کے دوران گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ تعزیتی پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے بیگم خالدہ ضیاء کو ایک مدبر، صاحبِ بصیرت اور ممتاز سیاسی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء پاکستان اور اس کے عوام کی مخلص دوست اور خیر خواہ تھیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مرحومہ کے اہل خانہ، بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکنان اور بنگلادیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف بنگلادیشی ہائی کمیشن میں خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیگم خالدہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔