2025ء میں مجموعی طور پر 672 آپریشنز کیے‘رینجرز
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-02-7
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان رینجرز (سندھ) نے سال 2025 کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوائبرائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے امن و امان کے قیام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ سندھ رینجرز نے سال بھر میں دہشت گردی اور سنگین جرائم کے خلاف مجموعی طور پر 672 آپریشنز کیے، جن کے دوران 227 ہائی پروفائل ملزمان کو گرفتار کر کے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے حوالے کیا گیا۔ترجمان پاکستان رینجرز (سندھ) کے مطابق پولیس کیساتھ مشترکہ کارروائیوں کے تحت کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف 58 آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں کچے کے علاقوں سے 146 خطرناک ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح سال 2025 کے دوران ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، منشیات فروشی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مجموعی طور پر 3413 آپریشنز عمل میں لائے گئے۔ترجمان کے مطابق اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے دوران 8 ارب روپے سے زائد مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔