Jasarat News:
2026-07-24@06:53:47 GMT

بینک اکائونٹس میں کاروباری رقوم روکنا باعث تشویش ہے

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے بینکوں کی جانب سے تاجروں اور کاروباری افراد کے اکاؤنٹس میں موجود جائز اور قانونی کاروباری رقوم کو بغیر پیشگی تحریری اطلاع، واضح وجوہات اور غیر معینہ مدت کے روکنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر کو حالیہ عرصے کے دوران متعدد تاجروں، بروکرز اور چھوٹے صنعتکاروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بینک لین دین مکمل ہونے اور تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے باوجود رقوم کو غیر معینہ مدت تک ہولڈ پر رکھا جا رہا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ تاجروں کو شدید مالی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا بھی ہے۔صدرچیمبرنے واضح کیا کہ چیمبر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین، AML/CTF ضوابط اور بینکوں کے حقِ جانچ و پڑتال کی مکمل حمایت کرتا ہے، کیونکہ شفاف اور محفوظ بینکاری نظام قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جائز کاروباری لین دین کی رقوم کو مہینوں تک بغیر تحریری وضاحت، ضابطہ جاتی حوالہ اور واضح ٹائم لائن کے روکنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ سلیم میمن کا کہنا تھا کہ ایسے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے باعث تاجروں کا کیش فلو بری طرح متاثر ہوتا ہے، کاروباری وعدے پورے نہیں ہو پاتے، مارکیٹ میں اعتماد مجروح ہوتا ہے اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے ممبران کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی کیسز میں متعلقہ اکاؤنٹ ہولڈرز بینک برانچز سے بارہا رجوع کرتے ہیں، مگر انہیں صرف زبانی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ‘‘معاملہ زیرِ عمل ہے’’یا‘‘جواب کا انتظار ہے’’، جبکہ نہ تو کوئی تحریری جواب دیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قانون یا ضابطے کا حوالہ فراہم کیا جاتا ہے، جو کہ شفاف بینکاری اصولوں کے منافی ہے۔صدرچیمبر سلیم میمن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بینکوں کو پابند کرے کہ کسی بھی اکاؤنٹ پر ہولڈ کی صورت میں تحریری وجہ اور متعلقہ ضابطہ جاتی حوالہ فراہم کیا جائے اورتحقیقات اور تصدیق کے عمل کے لیے واضح اور معقول مدت مقرر کی جائے اس کے ساتھ تاجروں اور کاروباری افراد کو غیر ضروری تاخیر، ہراسانی اور مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس نوعیت کے مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری کے ماحول اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری اپنے اراکین کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا اور امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے کا منصفانہ اور فوری حل یقینی بنائیں گے۔

کامرس ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ