Jasarat News:
2026-06-03@04:00:33 GMT

بینک اکائونٹس میں کاروباری رقوم روکنا باعث تشویش ہے

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-05-4
حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے بینکوں کی جانب سے تاجروں اور کاروباری افراد کے اکاؤنٹس میں موجود جائز اور قانونی کاروباری رقوم کو بغیر پیشگی تحریری اطلاع، واضح وجوہات اور غیر معینہ مدت کے روکنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر کو حالیہ عرصے کے دوران متعدد تاجروں، بروکرز اور چھوٹے صنعتکاروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بینک لین دین مکمل ہونے اور تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے باوجود رقوم کو غیر معینہ مدت تک ہولڈ پر رکھا جا رہا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ تاجروں کو شدید مالی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا بھی ہے۔صدرچیمبرنے واضح کیا کہ چیمبر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین، AML/CTF ضوابط اور بینکوں کے حقِ جانچ و پڑتال کی مکمل حمایت کرتا ہے، کیونکہ شفاف اور محفوظ بینکاری نظام قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جائز کاروباری لین دین کی رقوم کو مہینوں تک بغیر تحریری وضاحت، ضابطہ جاتی حوالہ اور واضح ٹائم لائن کے روکنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ سلیم میمن کا کہنا تھا کہ ایسے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے باعث تاجروں کا کیش فلو بری طرح متاثر ہوتا ہے، کاروباری وعدے پورے نہیں ہو پاتے، مارکیٹ میں اعتماد مجروح ہوتا ہے اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے ممبران کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی کیسز میں متعلقہ اکاؤنٹ ہولڈرز بینک برانچز سے بارہا رجوع کرتے ہیں، مگر انہیں صرف زبانی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ‘‘معاملہ زیرِ عمل ہے’’یا‘‘جواب کا انتظار ہے’’، جبکہ نہ تو کوئی تحریری جواب دیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قانون یا ضابطے کا حوالہ فراہم کیا جاتا ہے، جو کہ شفاف بینکاری اصولوں کے منافی ہے۔صدرچیمبر سلیم میمن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بینکوں کو پابند کرے کہ کسی بھی اکاؤنٹ پر ہولڈ کی صورت میں تحریری وجہ اور متعلقہ ضابطہ جاتی حوالہ فراہم کیا جائے اورتحقیقات اور تصدیق کے عمل کے لیے واضح اور معقول مدت مقرر کی جائے اس کے ساتھ تاجروں اور کاروباری افراد کو غیر ضروری تاخیر، ہراسانی اور مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس نوعیت کے مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری کے ماحول اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری اپنے اراکین کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا اور امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے کا منصفانہ اور فوری حل یقینی بنائیں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا