شوگر ملز کیس، فریقین کو نوٹس جاری، سماعت ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کر دی۔ مسابقتی کمیشن کی عدالت عظمیٰکے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیل مسابقتی کمیشن عصمہ حامد نے دلائل میں کہا کہعدالت عظمیٰ نے کمیشن کے بجائے ٹریبونل کو ریمانڈ کیا، ہم چاہتے ہیں آرڈر میں ٹریبونل کے بجائے کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کر دیتے ہیں۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسابقتی کمیشن میں کیسز سالوں سے زیر التواء رہتے ہیں۔ مسابقتی کمیشن کے چار ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کے کیس کی سماعت کی، جس میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر دو ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔ چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر ہوا، اس لیے ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار حاصل رہا۔ درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں کیس دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ چیئرمین کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور پھر دوبارہ فیصلہ کن ووٹ دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی پہلو پر ہو سکتا ہے، اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسابقتی کمیشن
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔