Jasarat News:
2026-07-24@06:52:46 GMT

سندھ بھر میں بے امنی کا راج ہے،مولانا حزب اللہ جکھرو

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-06-14
سکھر (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے رہنمامولانا حزب اللہ جکھرو نے سکھر سمیت سندھ بھر میں بے امنی اور بالخصوص اسٹریٹ کرائمز ، رہزنی، موٹرسائیکل چوریوں کی تازہ لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پولیس افسران سے ملاقات کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے واقعات نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے ، سکھر میں دن دہاڑے جماعت اسلامی شہر سکھر کے امیر سرفراز احمد صدیقی کی موٹر سائیکل اسٹیشن کے باہر سے اٹھا لی گئی، پولیس کو اطلاع کرنے کے باوجود تاوقت کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود پولیس بائیک کو برآمد کرنے میں ناکام ہے۔علاوہ ازیں سبزی منڈی سے جماعت اسلامی کے رہنما غلام جعفر جونیجو کی گاڑی جا رہی تھی دو دن پہلے اسے دن میں سبزی منڈی سے اٹھالی گئی جب وہ سبزی لینے گئے اور واپس آئے تو گاڑی غائب تھی۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے اسداللہ تنیو کی شکارپور پھاٹک سے اٹھائی گئی موٹر سائیکل کو بھی اب تک برآمد نہیں کیا جاسکا ہے ،سی سیکشن حد میں جماعت اسلامی کے رکن التفات احمد کی بائیک سمیت تین چار گاڑیاں اٹھائی جاچکی ہیں جنہیں اب تک برآمد کیا جا سکا ہے۔ جماعت اسلامی شہداد کوٹ کے امیر کے بھائی کی گاڑی شادی سے اٹھائی گئی ایک مہینہ گزرنے کے باوجود وہ گاڑی بھی ابھی تک برآمد نہیں کی جاسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس افسران اے ایس پی سٹی اور ایس ایچ اوز سے ملاقاتیں کی گئی ہیں اور انہیں آگاہ کیا گیا ہے۔ مولانا حزب اللہ جکھرو نے کہا کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو گاڑیاں کو اٹھا کر گم کر دیتی ہے، حکومت سندھ ایکشن کیوں نہیں لیتی۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے انتباہ کیا کہ اگر مسروقہ گاڑیاں ہمیں واپس نہیں ملی تو ہم احتجاج کا دائرہ بڑھا دیں گے، سکھر سے ایم این اے اور اسپیکر سندھ اسمبلی کا تعلق بھی سکھر روہڑی سے ہے حکومت سے مضبوط تعلقات رکھنے والے لوگ سکھر میں بیٹھے ہیں لیکن صورتحال تسلی بخش نہیں وے۔ سکھر سندھ کا تیسرا بڑا ضلع تجارتی حب ہے جہاں تاجر رہتے ہیں لیکن یہاں تاجر بھی پریشان ہیں۔صحافی، علما سمیت سب پریشانی سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے اپرسندھ کے اندر بے امنی کیخلاف جماعت اسلامی تحریک چلا رہی ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ پولیس کے پروٹوکول میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پولیس اہلکار جو وی آئی پیز پروٹوکول پر مصروف ہیں ان کو واپس تھانوں میں بھیجا جائے ۔جماعت اسلامی بے امنی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی